Business
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
وال سٹریٹ میں مثبت رجحان کے بعد پیر کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں حصص کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں نئے ہفتے کا آغاز مثبت رجحانات کے ساتھ ہوا ہے، جہاں ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں نے وال سٹریٹ کی حالیہ تیزی کی پیروی کرتے ہوئے نمایاں بہتری دکھائی ہے۔ جاپان کا نکی 225 انڈیکس ایشیائی مارکیٹوں میں سب سے آگے رہا، جس نے دیگر علاقائی منڈیوں کے لیے ایک مثبت مثال قائم کی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی خریداری کے رجحان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکی مارکیٹوں میں ہونے والی نمایاں پیش رفت بتائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وال سٹریٹ پر اعتماد کا اثر براہ راست ایشیائی سرمایہ کاروں کے جذبات پر پڑا ہے۔
اسٹاک مارکیٹوں کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کے شعبے میں بھی ہلچل دیکھی گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی وجہ طلب میں بہتری اور عالمی سپلائی چین سے متعلق خدشات ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عالمی معیشت کے لیے ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہیں، اور اس تازہ اضافے نے سرمایہ کاروں کی توجہ توانائی کے شعبے سے جڑی کمپنیوں کی جانب مبذول کروا دی ہے۔ اگرچہ امریکی فیوچر مارکیٹ میں کوئی بڑی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی اور وہاں صورتحال قدرے مستحکم ہے، تاہم ایشیائی منڈیوں میں ٹریڈنگ کا حجم بتاتا ہے کہ مارکیٹ کے کھلاڑی محتاط لیکن مثبت انداز اپنائے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال عالمی افراط زر کے دباؤ اور مرکزی بینکوں کی سود کی شرح کے حوالے سے پالیسیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔ ایشیائی مارکیٹوں میں تیزی اس بات کی عکاس ہے کہ سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ عالمی معاشی سرگرمیاں رفتار پکڑیں گی۔ ٹوکیو اور دیگر اہم مالیاتی مراکز میں حصص کے بھاؤ بڑھنے سے مجموعی طور پر ایک خوشگوار فضا قائم ہوئی ہے۔ تاہم، آنے والے دنوں میں عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی صورتحال اور امریکی معاشی اعداد و شمار مارکیٹ کی سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سرمایہ کار اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ تیزی پائیدار ثابت ہوتی ہے یا مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا نیا مرحلہ شروع ہوگا۔