Business
عالمی اسٹاک مارکیٹ اپ ڈیٹ: شیئرز اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا رجحان ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ گیا ہے جس کی بنیادی وجہ امریکی جاب مارکیٹ کے کمزور اعداد و شمار ہیں۔ دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور ایران کی صورتحال کے تناظر میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا سفر مسلسل جاری ہے اور شیئرز کی قیمتیں ریکارڈ بلندیوں کے قریب پہنچ چکی ہیں۔ ایشیائی منڈیوں نے وال اسٹریٹ کے مثبت رجحان کی پیروی کرتے ہوئے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تیزی کی بڑی وجہ امریکی جاب مارکیٹ کے وہ اعداد و شمار ہیں جو توقعات سے کمزور رہے ہیں، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ فیڈرل ریزرو اب شرح سود میں مزید اضافہ کرنے سے گریز کرے گا۔ شرح سود میں ممکنہ نرمی کی توقعات نے عالمی ایکویٹی مارکیٹس کو نئی توانائی فراہم کی ہے۔
اس دوران توانائی کے شعبے پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جہاں خام تیل کی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال نے تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔ ایران کی جانب سے جاری کردہ بیانات اور خطے میں جاری کشیدگی کے بعد سرمایہ کار محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہیں جس کے براہ راست اثرات عالمی منڈی میں تیل کے بھاؤ پر پڑ رہے ہیں۔
فیڈرل ریزرو کی مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں اب سرمایہ کار امریکی افراطِ زر اور ملازمتوں کے اعداد و شمار پر گہری نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ اگر امریکی معیشت کے مزید کمزور اعداد و شمار سامنے آتے ہیں تو یہ اسٹاک مارکیٹ کے لیے مزید مثبت ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے مرکزی بینک پر دباؤ کم ہوگا کہ وہ مانیٹری پالیسی کو سخت رکھے۔ تاہم، توانائی کے شعبے میں جاری غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے کیونکہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کو دوبارہ ہوا دے سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر، عالمی سرمایہ کار اب احتیاط اور جوش کے ملے جلے جذبات کے ساتھ مارکیٹ میں سرگرم ہیں۔ جہاں ایک طرف تکنیکی تیزی اور شرح سود میں نرمی کی امیدیں مارکیٹ کو اوپر لے جا رہی ہیں، وہیں دوسری طرف سیاسی کشیدگی سے پیدا ہونے والے خطرات بھی موجود ہیں۔ آنے والے دنوں میں مرکزی بینکوں کے فیصلوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ یہ تیزی کس حد تک برقرار رہتی ہے۔