LIVE
Loading Breaking News...

ٹیکنالوجی پیٹنٹ میں چین کا غلبہ: امریکی تسلط کو بڑا چیلنج

News Image
نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق چین کی یونیورسٹیوں نے اہم ٹیکنالوجیز کے شعبے میں پیٹنٹ کے حصول میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ پیش رفت امریکہ کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں برتری کو چیلنج کر رہی ہے اور عالمی سطح پر نئی حکمت عملی اپنانے کا تقاضا کرتی ہے۔
نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ (NBER) کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ نے عالمی ٹیکنالوجی کے منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین کی یونیورسٹیوں نے اہم اور کلیدی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں پیٹنٹ حاصل کرنے کی دوڑ میں دنیا بھر کی جامعات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف چین کی سائنسی اور تکنیکی ترقی کی عکاس ہے بلکہ اس نے امریکہ کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں طویل عرصے سے قائم برتری کو بھی براہ راست چیلنج کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی جامعات کی جانب سے تحقیق اور ڈیولپمنٹ پر خصوصی توجہ دینے کے نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ اس تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ چین کی جانب سے یونیورسٹی سطح پر پیٹنٹ کے حصول میں یہ غیر معمولی اضافہ محض ایک اتفاق نہیں بلکہ یہ حکومتی سطح پر بنائی گئی طویل مدتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ بیجنگ نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اپنی تعلیمی اور تحقیقی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کوانٹم کمپیوٹنگ اور گرین انرجی جیسے شعبوں میں کام کرنے کے لیے بھاری فنڈز فراہم کیے ہیں۔ اسی تحقیق کے باعث اب چینی ادارے عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ پیٹنٹ رجسٹر کروانے میں کامیاب ہو رہے ہیں، جس سے ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں ان کی گرفت مضبوط ہو رہی ہے۔ امریکی پالیسی سازوں کے لیے یہ اعداد و شمار ایک خطرے کی گھنٹی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ امریکہ کو اب اپنی جدت طرازی کی پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر امریکہ اپنی تکنیکی برتری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی یونیورسٹیوں اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید بڑھانا ہوگا، بصورت دیگر عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کا اثر و رسوخ مزید بڑھتا جائے گا۔ یہ مسابقتی صورتحال آنے والے سالوں میں عالمی تجارت اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ مجموعی طور پر، این بی ای آر کی یہ رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ دنیا اب ایک نئے تکنیکی دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں علم اور تحقیق ہی طاقت کا اصلی سرچشمہ ہیں۔ چین کا تعلیمی ڈھانچہ اب تیزی سے اختراعات پیدا کر رہا ہے جس سے عالمی مارکیٹ میں طاقت کا توازن تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ مغربی ممالک کے لیے اب ضروری ہے کہ وہ اپنی تحقیقی سرمایہ کاری کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دیں تاکہ وہ اس بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی مسابقت کو برقرار رکھ سکیں۔