LIVE
Loading Breaking News...

Milky Mist Dairy IPO تفصیلات: پرائس بینڈ، لاٹ سائز اور لسٹنگ گیین

News Image
ملکی مسٹ ڈیری فوڈز لمیٹڈ کا 1553 کروڑ روپے مالیت کا آئی پی او 11 اگست کو سبسکرپشن کے لیے کھل جائے گا۔ گرے مارکیٹ پریمیم کے اعداد و شمار کے مطابق سرمایہ کاروں کو لسٹنگ پر تقریباً 20 فیصد تک منافع حاصل ہونے کی امید ہے۔
بھارتی ڈیری انڈسٹری کی معروف کمپنی ملکی مسٹ ڈیری فوڈز لمیٹڈ نے اپنے ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) کے اجرا کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کا 1553 کروڑ روپے مالیت کا یہ بڑا آئی پی او 11 اگست کو سرمایہ کاری کے لیے کھول دیا جائے گا اور یہ 13 اگست تک جاری رہے گا۔ کمپنی نے اپنے حصص کی قیمت 133 سے 140 روپے فی شیئر کے درمیان مقرر کی ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں کافی جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیشکش کمپنی کے مالیاتی اہداف کے حصول میں اہم ثابت ہوگی۔ گرے مارکیٹ (GMP) کے حالیہ رجحانات اس آئی پی او کے حوالے سے کافی مثبت اشارے دے رہے ہیں۔ موجودہ گرے مارکیٹ پریمیم 26 روپے کے لگ بھگ چل رہا ہے، جو کہ ایشو پرائس کے مقابلے میں تقریباً 19 سے 20 فیصد کا متوقع منافع ظاہر کرتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ لسٹنگ سے قبل کمپنی کے لاٹ سائز، سب سکریپشن کے اعداد و شمار اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کا بغور جائزہ لیں۔ اس پیشکش کے ذریعے حاصل ہونے والی رقوم کا استعمال کمپنی اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور جدید ٹیکنالوجی کی تنصیب کے لیے کرے گی۔ اسٹاک مارکیٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ڈیری سیکٹر میں ملکی مسٹ کا نام ایک مضبوط برانڈ کے طور پر ابھرا ہے، جس کی وجہ سے اس آئی پی او میں خوردہ اور ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی بڑی تعداد متوقع ہے۔ لسٹنگ کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے تمام تر ضوابط پر عمل کیا جا رہا ہے۔ جن سرمایہ کاروں نے اس پیشکش میں دلچسپی ظاہر کی ہے، ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ڈی میٹ اکاؤنٹ اور بینکنگ تفصیلات کو بروقت اپ ڈیٹ کر لیں تاکہ درخواست جمع کرانے میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ آئی پی او کے بند ہونے کے بعد الاٹمنٹ کا عمل شروع ہوگا، جس کے بعد کمپنی کے حصص اسٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کے لیے دستیاب ہوں گے۔ یہ پیشکش نہ صرف کمپنی کے لیے سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے گی بلکہ مارکیٹ میں اس کی ساکھ کو مزید مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔ سرمایہ کاروں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی اپنی سرمایہ کاری کا فیصلہ کریں، تاہم ابتدائی اعداد و شمار کافی حوصلہ افزا دکھائی دیتے ہیں۔