World
یو اے ای کی فوج میں مغربی ماہرین: ایک تاریخی تحقیقی جائزہ
ایتھول ییٹس کی نئی کتاب 1965 سے 2024 تک متحدہ عرب امارات کی فوج میں مغربی ماہرین کے کردار اور اثرات کا تفصیلی جائزہ لیتی ہے۔ یہ تحقیقی کام خطے کی دفاعی تاریخ اور عسکری ترقی میں غیر ملکی ماہرین کی خدمات کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یونیورسٹی آف ایکسیٹر پریس کی جانب سے شائع ہونے والی نئی کتاب 'ویسٹرن ملٹری ایکسپیٹریٹس اِن دی آرمڈ فورسز آف دی یو اے ای'، مصنف ایتھول ییٹس کی ایک گہری اور فکر انگیز تحقیق ہے۔ یہ کتاب 1965 سے لے کر 2024 تک کے طویل عرصے کا احاطہ کرتی ہے، جس میں متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ارتقاء اور اس میں غیر ملکی، بالخصوص مغربی عسکری ماہرین کے کردار کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ 304 صفحات پر مشتمل یہ کتاب نہ صرف فوجی تاریخ کے طلباء کے لیے اہم ہے بلکہ خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال کو سمجھنے والوں کے لیے بھی ایک کلیدی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔
کتاب میں اس بات کا تجزیہ کیا گیا ہے کہ کس طرح متحدہ عرب امارات نے اپنی قیام کے ابتدائی برسوں سے ہی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے عالمی تجربات اور ماہرین سے استفادہ کیا۔ ایتھول ییٹس نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ مغربی فوجی مشیروں، تربیت کاروں اور تکنیکی ماہرین نے اماراتی فوج کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں کتنا کلیدی کردار ادا کیا۔ مصنف نے ان غیر ملکی اہلکاروں کی خدمات، ان کے اثرات اور اس باہمی تعلق کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عسکری ثقافت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ یہ مطالعہ اس بات کی بھی وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح ایک نو تشکیل شدہ ریاست نے جدید ہتھیاروں اور حکمت عملیوں کو اپناتے ہوئے اپنی قومی خودمختاری کو یقینی بنایا۔
اس تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ یہ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں رہتی، بلکہ یہ ان انسانی اور پیشہ ورانہ تعلقات کو بھی بیان کرتی ہے جو گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران قائم ہوئے۔ ییٹس نے اپنی تحقیق کے دوران جن دستاویزات اور تاریخی شواہد کا سہارا لیا ہے، وہ اس کتاب کو ایک مستند علمی کام بناتے ہیں۔ یہ کتاب اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی دفاعی حکمت عملی میں لچک اور وقت کے ساتھ تبدیلی کس طرح ایک نمایاں پہلو رہی ہے۔ آج جب متحدہ عرب امارات ایک علاقائی عسکری طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے، تو اس کتاب میں موجود تاریخی تناظر اس کے موجودہ دفاعی ڈھانچے کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ناگزیر ہے۔
آخر میں، 'ویسٹرن ملٹری ایکسپیٹریٹس اِن دی آرمڈ فورسز آف دی یو اے ای' ان تمام افراد کے لیے ایک بہترین علمی تحفہ ہے جو مشرق وسطیٰ کی عسکری تاریخ اور بین الاقوامی دفاعی تعاون کے موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ کتاب نہ صرف ماضی کے دریچے کھولتی ہے بلکہ مستقبل میں بھی دفاعی تعاون کے نئے امکانات کو سمجھنے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرتی ہے۔ ایتھول ییٹس کی یہ کاوش دفاعی امور کے ماہرین اور محققین کے لیے ایک اہم حوالہ رہے گی۔