World
ترکیہ میں پی کے کے عسکریت پسندوں کے لیے معافی بل منظور
ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پی کے کے کے ہزاروں عسکریت پسندوں کی بحالی اور قومی یکجہتی سے متعلق ایک تاریخی قانون کی منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کا مقصد کرد مسئلے کو تشدد کے بجائے سیاسی دائرہ کار میں لانا اور ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنا ہے۔
انقرہ: ترکیہ کی پارلیمنٹ نے کرد عسکریت پسندوں کی تنظیم پی کے کے (PKK) کے ہزاروں ارکان کے لیے ایک معافی نما اور قومی یکجہتی کے بل کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس تاریخی قانون سازی کا مقصد ملک میں کئی دہائیوں سے جاری مسلح تنازع کو ختم کرنا اور عسکریت پسندوں کو پرامن معاشرے میں دوبارہ ضم کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بل پر بحث کا آغاز قومی یکجہتی کے ایجنڈے کے تحت کیا گیا تھا جسے ملک کی بڑی سیاسی قوتوں کی حمایت بھی حاصل رہی۔
ترکی میڈیا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس قانون کو 'دہشت گردی سے پاک ترکیہ' کے ویژن کے تحت دیکھا جا رہا ہے۔ قانون کے نفاذ سے ان عسکریت پسندوں کو عام زندگی میں واپس آنے کا موقع ملے گا جو براہ راست سنگین جرائم میں ملوث نہیں رہے، اور اس طرح حکومت کرد مسئلے کو عسکری محاذ سے ہٹا کر سیاسی اور جمہوری عمل کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فریم ورک قانون کرد مسئلے کو تشدد کے اندھیروں سے نکال کر سنجیدہ سیاسی مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس قانون کے تحت عسکریت پسندوں کی کونسلنگ اور ان کی معاشرتی بحالی کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ وہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے بنیادی حقوق حاصل کر سکیں۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ملک کی اندرونی سلامتی اور استحکام کے لیے تمام طبقات کو قومی دھارے میں شامل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ترکیہ کی پارلیمنٹ میں اس بل کی منظوری کو ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے جس سے خطے میں دیرپا امن اور مفاہمت کی نئی راہیں کھلنے کی توقع کی جا رہی ہے۔