World
برطانوی عدالت: بحرین کے خلاف جاسوس سافٹ ویئر کا مقدمہ چل سکے گا
برطانوی عدالت کے اس اہم فیصلے سے یہ طے ہوگیا ہے کہ برطانوی سرزمین پر جاسوس سافٹ ویئر کا نشانہ بننے والے افراد متعلقہ حکومتوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کر سکتے ہیں۔ بحرین کی جانب سے اس مقدمے کو روکنے کی کوششوں کو عدالت نے مسترد کر دیا ہے۔
برطانوی عدالت نے بحرین کی جانب سے دائر کی جانے والی اس اپیل کو مسترد کر دیا ہے جس میں کارکنوں کی جانب سے دائر کردہ جاسوس سافٹ ویئر کے مقدمے کو روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس عدتلی فیصلے کے بعد اب یہ قانونی راستہ ہموار ہو گیا ہے کہ برطانوی سرزمین پر موجود افراد یا کارکنان اگر کسی غیر ملکی حکومت کے ڈیجیٹل جاسوس سافٹ ویئر کا نشانہ بنتے ہیں، تو وہ برطانوی عدالتوں میں اس کے خلاف ہرجانے یا انصاف کے لیے مقدمہ دائر کر سکتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل نگرانی اور جاسوسی کے خلاف ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ بحرین کی حکومت پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس نے برطانوی دائرہ اختیار میں رہنے والے سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل آلات میں غیر قانونی طور پر جاسوس سافٹ ویئر نصب کیا۔ متاثرہ کارکنوں نے اس ڈیجیٹل حملے کے خلاف برطانوی عدالتوں میں انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا، جس پر بحرین کے وکلاء نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے میں برطانوی عدالت کو سماعت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ تاہم، برطانوی عدالت نے بحرین کے اس اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ مقدمہ آگے بڑھایا جائے گا۔ اس تاریخی فیصلے کے بعد اب دوسرے ممالک کے لیے بھی یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ اپنے ناقدین یا کارکنوں کے خلاف اگر برطانوی حدود میں ڈیجیٹل جاسوسی کا استعمال کریں گے، تو انہیں برطانوی قوانین کے تحت عدالتوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ڈیجیٹل پرائیویسی اور آزادیِ اظہار کے لیے ایک بڑی فتح قرار دیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس کیس کے مزید قانونی مراحل میں ڈیجیٹل جاسوسی کے استعمال سے متعلق مزید اہم حقائق سامنے آئیں گے، جو دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے رہنما ثابت ہوں گے۔