LIVE
Loading Breaking News...

قومی اقلیتی دن 2026: پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی

News Image
پاکستان میں قومی اقلیتی دن 2026ء کے موقع پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور حکومتی شخصیات نے ملک بھر میں اقلیتوں کے مساوی حقوق اور مذہبی آزادی کے فروغ پر زور دیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نئے کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان میں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں ایچ آر ایف پی (HRFP) اور ٹی ایف ڈی (TFD) نے مشترکہ طور پر قومی اقلیتی دن 2026ء منایا۔ اس موقع پر منعقدہ تقریبات اور جاری کردہ پیغامات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان میں تمام شہریوں کو بلاتفریق مذہب و رنگ و نسل مساوی حقوق حاصل ہونے چاہئیں اور ملک میں مذہبی آزادی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ تقریب کے شرکاء نے آئین پاکستان کے دیے گئے بنیادی حقوق کی پاسداری پر بھی روشنی ڈالی۔ اس قومی دن کی مناسبت سے ملک کی اعلیٰ قیادت نے بھی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور صدر مملکت نے اپنے پیغامات میں کہا کہ ریاست اقلیتوں کی فلاح و بہبود اور ان کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ حکومت اقلیتوں کے دیرینہ مسائل کے حل اور ان کے حقوق کے مؤثر تحفظ کے لیے قومی کمیشن برائے اقلیتیں قائم کرنے کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہی ہے۔ سرکردہ اخبارات ڈان اور دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق ملک کے طول و عرض میں اقلیتی برادریوں کے رہنماؤں نے اس عزم کا خیرمقدم کیا ہے تاہم اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے نچلی سطح پر آگاہی اور سخت قانونی چارہ جوئی کی ضرورت ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ روایتی طور پر پاکستان میں اقلیتوں نے ملکی تعمیر و ترقی میں ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ان کے حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ علاوہ ازیں، دی نیوز اور عرب نیوز پی کے کی رپورٹس میں اس امر کو بھی اجاگر کیا گیا کہ پڑوسی ممالک میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، اس کے برعکس پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی اور حکومتی سطح پر جو کوششیں ہو رہی ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔ ایچ آر ایف پی اور ٹی ایف ڈی کے زیراہتمام ہونے والی ان تقریبات کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینا اور پاکستان کو ایک ایسا پرامن معاشرہ بنانا تھا جہاں ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا شہری خود کو محفوظ اور برابر کا پاکستانی محسوس کرے۔