LIVE
Loading Breaking News...

آبناہ ہرمز بندش: تیل کی قیمتیں اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی

News Image
آبناہ ہرمز کی بندش میں طویل عرصے تک توسیع کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور اسٹاکس میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایران کی جانب سے سخت شرائط عائد کیے جانے کے بعد ڈیل کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں۔
عالمی منڈی میں آبناہ ہرمز کی بندش کے طویل ہونے کے پیش نظر خام تیل کی قیمتوں اور اسٹاکس میں ایک بار پھر نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، آبناہ ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے جاری مذاکرات میں تعطل برقرار ہے اور امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں کیونکہ نئی شرائط سامنے آ رہی ہیں۔ اومان کی جانب سے اگرچہ بات چیت کو مثبت قرار دیا گیا ہے، تاہم ایران نے سخت مطالبات پیش کیے ہیں جن کے تحت آبناہ ہرمز کو اس وقت تک بند رکھا جائے گا جب تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان کی شرائط پر رضا مند نہیں ہوتے۔ اس صورتحال نے توانائی کی عالمی مارکیٹ میں شدید بے یقینی کو جنم دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبناہ ہرمز دنیا کی تیل کی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور اس کی بندش کے اثرات براہ راست عالمی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ ایران کی جانب سے سخت گیر مؤقف اور نئی شرائط کے سامنے آنے کے بعد تیل کی برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں جس کی وجہ سے منڈی میں خریداروں کی دلچسپی بڑھ گئی ہے اور قیمتیں تیزی سے اوپر جا رہی ہیں۔ مختلف عالمی خبر رساں اداروں، جن میں الجزیرہ، سی این این، بی بی سی اور نیویارک ٹائمز شامل ہیں، کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن فریقین کے درمیان پائیدار حل تک پہنچنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اسٹاک مارکیٹس پر بھی آبناہ ہرمز کے بحران کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں جہاں سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے کیونکہ سپلائی چین کے تعطل کے باعث کاروباری اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ اگر یہ تعطل زیادہ طویل ہوتا ہے تو عالمی سطح پر مہنگائی کی ایک نئی لہر آ سکتی ہے جس سے تمام بڑے معاشی خطے متاثر ہوں گے۔ حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر بحران کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم فوری طور پر کسی معاہدے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ اومان سمیت دیگر ثالث ممالک فریقین کے درمیان فاصلے مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ آبناہ ہرمز کو جلد از جلد کھولا جا سکے اور عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں کا رجحان اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں کوئی نرمی آتی ہے یا نہیں کلیدی مذاکرات کا اگلا دور کیا رخ اختیار کرتا ہے۔