World
مشرقی چین میں سمندری طوفان ڈالفن کا قہر، دس لاکھ افراد کا انخلاء
مشرقی چین میں طاقتور ترین سمندری طوفان ڈالفن کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی مچ گئی ہے اور حکومت نے حفاظتی اقدامات کے تحت دس لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ طوفان کی وجہ سے شنگھائی میں ساڑھے نو سو کے قریب پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں اور بیجنگ میں بھی موسلا دھار بارشوں کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
بیجنگ: مشرقی چین میں سال کے سب سے طاقتور سمندری طوفان 'ڈالفن' نے شدید تباہ کاریاں شروع کر دی ہیں، جس کے پیش نظر چینی حکام نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائیاں کرتے ہوئے دس لاکھ سے زائد افراد کو خطرے سے دوچار علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق طوفان کے زمین سے ٹکرانے کے بعد بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے اور ساحلی علاقوں میں زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ انتظامیہ نے ممکنہ جانی نقصان سے بچنے کے لیے ہائی الرٹ نافذ کر رکھا ہے۔
طوفان کے پیش نظر نقل و حمل کا نظام بھی شدیدمتاثر ہوا ہے۔ صرف شنگھائی کے ائیرپورٹس پر نو سو پچاس کے قریب پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے ہزاروں مسافر پھنس کر رہ گئے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے جبکہ ریلوے اور سمندری ٹریفک کو بھی عارضی طور پر معطل یا محدود کر دیا گیا ہے۔ تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے نشیبی علاقے زیر آب آ چکے ہیں اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب، چینی دارالحکومت بیجنگ اور اس کے گردونواح میں بھی شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق بیجنگ میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سالانہ اوسط بارش کا ایک تہائی حصہ برسنے کی توقع ہے، جس کے باعث اربن فلڈنگ یعنی شہری سیلاب کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ حکومت نے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے اور متاثرہ عوام تک خوراک اور طبی امداد بروقت پہنچائی جا سکے۔