LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا غزہ امن منصوبے سے انکار

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے پیش کردہ پندرہ نکاتی غزہ امن منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد امریکی دباؤ کے بجائے اپنے دائیں بازو کے سیاسی اتحاد کو برقرار رکھنا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ پندرہ نکاتی غزہ امن منصوبے کو مسترد کیے جانے کے بعد عالمی اور علاقائی سیاست میں ایک نئی ہلچل مچ گئی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ واشنگٹن کے دباؤ میں آنے کے برعکس اپنی ملکی سیاست اور دائیں بازو کے اتحادیوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ اس فیصلے کو صوابدیدی طور پر نیتن یاہو کی جانب سے اپنے سیاسی بقا کی جنگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق، نیتن یاہو کا یہ ردعمل حتمی لفظ نہیں مانا جا رہا، تاہم اس سے تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان موجودہ پالیسیوں پر ہم آہنگی کے فقدان کا واضح اشارہ ملتا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے حساب کتاب کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ فی الوقت امریکی صدر کو ناراض کرنا ان کے لیے نسبتاً کم نقصان دہ آپشن ہے بہ نسبت اس کے کہ ان کی اپنی انتہائی دائیں بازو کی حکومت گر جائے۔ اس صورتحال نے امریکی طاقت اور اثر و رسوخ کی حدود کو بھی ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔ دوسری جانب، برطانوی اور بین الاقوامی اخبارات نے نیتن یاہو کے اس طرزِ عمل کو سیاسی یو ٹرن اور تضادات سے بھرپور قرار دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس پوزیشننگ سے نیتن یاہو نہ تو اپنے تمام اتحادیوں کو پوری طرح مطمئن کر پا رہے ہیں اور نہ ہی عالمی برادری کے مطالبات سے چشم پوشی کر سکتے ہیں۔ غزہ کے مستقبل اور جنگ بندی کے حوالے سے پیدا ہونے والے اس نئے ڈیڈ لاک نے خطے میں امن کی امیدوں کو مزید مدہم کر دیا ہے، جبکہ اسرائیل کی اندرونی سیاست میں بھی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔