World
ٹرمپ کا شہریت کا نیا چیلنج اور ہنٹر بائیڈن کا انٹرویو
امریکی سیاست میں شہریت کے پیدائشی حق کو ختم کرنے کے ٹرمپ کے نئے ارادوں پر بحث جاری ہے، جبکہ ہنٹر بائیڈن نے بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں اپنے صدارتی معافی نامے اور والد کی صحت پر کھل کر بات کی ہے۔ یہ دونوں اہم موضوعات اس وقت امریکی اور عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہیں۔
امریکہ میں ایک بار پھر شہریت کے پیدائشی حق کے حوالے سے گرما گرم بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ نو منتخب یا سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس آئینی حق کو چیلنج کرنے کے نئے اعلانات کے بعد ملکی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ ماہرینِ قانون اور سیاسی تجزیہ کار اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ٹرمپ کا یہ نیا قانونی اور سیاسی چیلنج عملی طور پر کامیاب ہو سکے گا یا نہیں۔ یہ مسئلہ امریکی آئین کی چودہویں ترمیم سے جڑا ہوا ہے، جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو خود بخود امریکی شہریت مل جاتی ہے۔ ٹرمپ کے حامی اس پالیسی میں تبدیلی کے خواہاں ہیں تاکہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے بچوں کو اس سہولت سے روکا جا سکے، جب کہ مخالفین اسے آئینی حقوق کے خلاف قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب، امریکی سیاست کے ایک اور اہم ترین معاملے میں صدر جو بائیڈن کے صاحبزادے ہنٹر بائیڈن نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا ہے۔ اس انٹرویو کے دوران ہنٹر بائیڈن نے اپنے صدارتی معافی نامے (Pardon) کے تنازع پر کھل کر گفتگو کی اور اپنے اوپر لگنے والے الزامات پر بھی بات کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خاندان کو کس طرح سیاسی دباؤ اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور یہ کہ ان کے والد جو بائیڈن نے اپنے دورِ اقتدار کے آخری ایام میں یہ فیصلہ کیوں کیا۔
بی بی سی کو دیئے گئے اس انٹرویو میں ہنٹر بائیڈن نے اپنے والد اور موجودہ صدر جو بائیڈن کی صحت کے بارے میں بھی اہم انکشافات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ والد کی صحت اور حالیہ سیاسی دباؤ نے ان کے پورے خاندان کو کس نوعیت کے ذاتی اور جذباتی چیلنجز سے دوچار کیا۔ ہنٹر کے مطابق، جو بائیڈن نے ہمیشہ ملکی مفاد کو مقدم رکھا ہے اور صدارتی دوڑ سے دستبردار ہونے کا فیصلہ انتہائی مشکل لیکن زمینی حقائق کے مطابق تھا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا خاندان تمام قانونی اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع جاری رکھیں گے۔
ان دونوں خبروں نے امریکی میڈیا اور بین الاقوامی سطح پر ایک بار پھر سیاسی طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف تارکینِ وطن اور شہریت کا معاملہ امریکہ کے آئینی مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، وہیں دوسری طرف بائیڈن خاندان کے یہ اندرونی معاملات سیاسی مخالفین کے لیے تنقید کا نیا سامان فراہم کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دونوں موضوعات امریکی سیاست کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، اور تجزیہ کار اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ ٹرمپ کی قانونی ٹیم اس محاذ پر کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔