Politics
بحرین کے وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار کو فون، مکہ دفاعی معاہدے پر مبارکباد
بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر مبارکباد دیتے ہوئے جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔
اسلام آباد (نیزور نیوز) بحرین کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عبداللطیف بن راشد الزیانی نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں دو طرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق بحرین کے وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر مبارکباد پیش کی۔ یہ اہم دفاعی معاہدہ گزشتہ ماہ سات اگست کو طے پایا تھا جس کا بنیادی مقصد خطے میں اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا اور کسی بھی رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ریاستوں پر حملہ تصور کرنا ہے۔ اس گفتگو کے دوران بحرین کے وزیر خارجہ نے مستقبل قریب میں پاکستان کا دورہ کرنے کی اپنی شدید خواہش کا بھی اظہار کیا جسے پاکستانی وزیر خارجہ نے سراہا۔نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے ارادے کا خیرمقدم کیا اور ان کے خیر سگالی کے جذبات پر شکریہ ادا کیا۔ گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے علاقائی اور عالمی سطح پر امن اور استحکام کے حصول کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینے کے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ دفاعی معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کے اصولوں پر کاربند رہنے والے خطے کے کسی بھی دوسرے ملک کے لیے بھی کھلا ہے۔ یاد رہے کہ اس معاہدے کے تحت کسی بھی ایک ملک پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل اکاون کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق کے عین مطابق ہے۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو عالم اسلام کی نمائندہ تنظیم او آئی سی کی طرف سے بھی ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک قدم قرار دیا جا چکا ہے۔ خلیجی ممالک بالخصوص کویت، بحرین اور صومالیہ نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ ایران کی جانب سے بھی اس پر ایک مثبت اور تعمیراتی ردعمل سامنے آیا ہے جس میں علاقائی ممالک کے مابین باہمی تعاون پر مبنی سلامتی کے نظام کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے سے خطے میں دفاعی تعاون کو ایک نئی سمت ملے گی اور دوست ممالک کے مابین تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔