Education
ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اے آئی پالیسی اور طلبا کے لیے چیلنجز
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جامعات کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق ایک مسودہ تیار کیا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ طلبا کی طرف سے اے آئی کے استعمال کو چیک کرنا اور اس پر پابندی لگانا عملی طور پر ناممکن ہے۔ نئی پالیسی کے تحت اے آئی کے نفاذ اور اس کے طریقہ کار پر ماہرین کی جانب سے جامع بحث کی جا رہی ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے ملک بھر کی جامعات میں مصنوعی ذہانت (AI) کے فروغ کے لیے دو اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں زواتی اور پوسٹ گریجویٹ درجے پر تین کریڈٹ آورز کا اے آئی کورس لازمی قرار دینا شامل ہے جو خزاں 2026 سے شروع ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ جامعات میں جنریٹو اے آئی کے استعمال سے متعلق ایک مسودہ پالیسی بھی جاری کی گئی ہے۔ اگرچہ یہ اقدامات بروقت معلوم ہوتے ہیں لیکن اس مسودے میں طلبا کے لیے جو قواعد و ضوابط طے کیے گئے ہیں وہ عملی طور پر کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ پالیسی کے تحت طلبا پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ اے آئی سے تیار کردہ کام کو اپنا کام کہہ کر جمع نہ کروائیں اور اس بات کی وضاحت کریں کہ انہوں نے کون سے ٹولز استعمال کیے ہیں۔ یہ خیالات اگرچہ اصولاً درست ہیں مگر ان کا نفاذ اور تصدیق کرنا ناممکن ہے، جس کا اعتراف مسودے میں بھی کیا گیا ہے کہ محض اے آئی ڈیٹیکشن رپورٹ کی بنیاد پر کسی طالب علم کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ یہ قواعد غلط ہیں بلکہ یہ ہیں کہ یہ ایسی چیز کو ہدف بناتے ہیں جو پوشیدہ ہوتی ہے۔
بحث اس بات پر ہونی چاہیے کہ جامعات میں طلبا سے کیا کچھ جانچا جا رہا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت پہلے سے موجود صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ یہ اسی کی مدد کرتی ہے جس کے پاس کچھ نہ کچھ بنیادی صلاحیت موجود ہو اور یہ وہاں کوئی نئی صلاحیت پیدا نہیں کرتی جہاں پہلے سے کچھ نہ ہو۔ جامعات کے حوالے سے سب سے بڑا اعتراض یہ نہیں کہ طلبا نقل کریں گے بلکہ یہ ہے کہ ہم جو کچھ پڑھا رہے ہیں شاید اب اس کی پہلے جیسی ضرورت نہ رہی ہو۔ مثال کے طور پر، اگر ایک جدید کوڈنگ اسسٹنٹ چند منٹ میں ڈیٹا سیٹ کو صاف کر سکتا ہے یا کوئی ماڈل تیار کر سکتا ہے، تو کسی طالب علم کو شماریات یا مشین لرننگ کا پورا سمسٹر کیوں پڑھنا چاہیے۔ تاہم، ان سسٹمز کے پاس اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی، وہ صرف اس سمت میں بہتر عمل کرتے ہیں جو کوئی انسان ان کے لیے طے کرتا ہے۔ سوال پوچھنے کا ہنر، ڈیٹا پر اعتبار کرنے کی صلاحیت اور یہ جاننا کہ کون سا جواب درست ہے اور کون سا غلط، یہ سب انسان کی اپنی علمی پختگی پر منحصر ہے جو کہ کسی سستے پراپٹ سے نہیں بلکہ مضمون کی گہری سمجھ سے آتی ہے۔
تعلیمی اداروں میں تعلیم کا مقصد صلاحیت پیدا کرنا ہے اور صلاحیت ایسی محنت سے بنتی ہے جسے باہر آؤٹ سورس نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے کیلکولیٹر آنے کے باوجود بچوں کو بنیادی ریاضی پڑھانا نہیں چھوڑی کیونکہ بنیادی مشقیں دماغ کی صلاحیت کو بڑھاتی ہیں۔ جب ہائر ایجوکیشن کمیشن کا لازمی اے آئی کورس نافذ ہوگا تو اس بات کا خطرہ موجود ہے کہ اگر اس کی سمت درست نہ رکھی گئی تو یہ صرف چیٹ بوٹ سے بات کرنے کا طریقہ سکھانے والا ایک عام سیشن بن کر رہ جائے گا جو کہ مارکیٹ کی اصل ضرورت کو پورا نہیں کر پائے گا۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ روزانہ کی بنیاد پر چیٹ جی پی ٹی اور دیگر ماڈلز استعمال کر رہے ہیں، لہذا جامعات کا مقصد صرف عام استعمال سکھانا نہیں بلکہ طلبا کو اس قابل بنانا ہونا چاہیے کہ وہ ان سسٹمز کی مدد سے خود کچھ نیا تعمیر کر سکیں اور ڈیٹا کے بڑے آرکائیوز کو ہینڈل کرنے کے قابل ہو سکیں۔
مصنوعی ذہانت کو مختلف سطحوں پر مختلف طریقوں سے برتنے کی ضرورت ہے۔ ایک پی ایچ ڈی کے طالب علم یا فیکلٹی ممبر کے پاس پہلے سے تحقیق کی مہارت موجود ہوتی ہے جسے اے آئی مزید وسعت دے سکتی ہے، جبکہ دوسری سمسٹر کے انڈرگریجویٹ طالب علم کے پاس ابھی اپنی کوئی پختہ صلاحیت نہیں ہوتی جسے مصنوعی ذہانت ضرب دے سکے۔ اگر اے آئی کو بغیر کسی حکمت عملی کے طلبا کے لیے چھوڑ دیا جائے تو یہ ان کی اپنی سیکھنے کی صلاحیت کو خاموشی سے نقصان پہنچا سکتی ہے۔ لہذا، ایچ ای سی کو اپنی اس پالیسی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جامعات میں اے آئی کا استعمال طلبا کے لیے محض شارٹ کٹ نہ بنے بلکہ حقیقی علمی ترقی کا ذریعہ ثابت ہو۔