LIVE
Loading Breaking News...

ملک ریاض کی اثاثہ جات ضبطی کے خلاف اہم شخصیات سے اپیل

News Image
معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین نے اپنے اثاثے منجمد کیے جانے کے معاملے پر پاکستان کی اہم شخصیات سے مدد کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اربوں روپے کے اثاثوں کا حوالہ دیتے ہوئے دھمکیوں کی تحقیقات اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
معروف پاکستانی پراپرٹی ڈویلپر ملک ریاض حسین نے حالیہ دنوں میں اپنے اثاثے منجمد کیے جانے کے معاملے پر ملک کی اہم اور سرکردہ شخصیات سے باضابطہ طور پر مدد کی اپیل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پورے تنازع میں لگ بھگ دو سو اڑتیس اعشاریہ چھ ارب روپے مالیت کے اثاثوں کا ذکر کیا گیا ہے جوکہ کاروباری اور معاشی حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ ملک ریاض کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف قانونی اور انتظامی چیلنجز شدت اختیار کر چکے ہیں۔ اس ضمن میں موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، ایف آئی آر کی بحالی کے بعد ایک سنجیدہ خطرے کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے تاکہ تمام حقائق کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق سامنے لایا جا سکے۔ ملک ریاض اور ان کے ترجمانوں کا اصرار ہے کہ ریاست اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تمام پیچیدہ امور کو باہمی بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں کاروباری ماحول اور سرمایہ کاروں کا اعتماد متاثر نہ ہو۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک ریاض کا شمار پاکستان کے سب سے بڑے نجی رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز میں ہوتا ہے اور ان کے جاری کردہ اس بیان کے معاشی و سیاسی دونوں محاذوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس کڑے وقت میں اہم شخصیات کی جانب سے اس معاملے پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے، اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہی ہو سکے گا، تاہم فی الحال یہ معاملہ ملکی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔