LIVE
Loading Breaking News...

نوے کی دہائی کی پرورش کا رجحان اور والدین کی کوششیں

News Image
آج کے دور میں والدین نوے کی دہائی کے انداز میں بچوں کی پرورش کرنے کے لیے خصوصی کورسز اور کٹس خرید رہے ہیں۔ وہ اس دور کی سادگی اور حیرت کو دوبارہ تخلیق کرنا چاہتے ہیں جو ان کے خیال میں اب بچوں کو نہیں مل رہی۔
آج کے دور میں جب ٹیکنالوجی اور سکرینز نے بچوں کی زندگیوں کو گھیر رکھا ہے، والدین کی ایک بڑی تعداد نوے کی دہائی کے طرز پر بچوں کی پرورش کرنے کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ مارکیٹ میں ایسے کورسز اور خصوصی کٹس کی فروخت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو والدین کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش بالکل اسی طرح کر سکتے ہیں جیسے 1996 میں کی جاتی تھی۔ اس رجحان کے پیچھے اصل محرک یہ سوچ ہے کہ اس دور میں بچوں کی زندگی زیادہ حقیقی اور سادہ تھی، جہاں باہر کھیلنا، تخیلاتی کہانیاں اور محدود ڈیجیٹل مداخلت تھی۔ والدین کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈیجیٹل ماحول نے بچوں سے بچپن کا وہ پرسکون اور طبعی احساس چھین لیا ہے جو نوے کی دہائی میں عام تھا۔ اس مقصد کے لیے خریدی جانے والی کٹس اور کورسز میں ایسے کھیلوں اور سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا ہے جو اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ سے بالکل پاک ہیں۔ ماہرین کے مطابق، والدین کی جانب سے یہ کوشش دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ جدید دور کی تیز رفتار زندگی نے بچوں کو نفسیاتی طور پر تھکا دیا ہے اور وہ ماضی کے پرسکون ماحول کی تلاش میں ہیں۔ اس رجحان کے تحت بچوں کو بغیر کسی ڈیجیٹل آلے کے وقت گزارنے، کتابیں پڑھنے اور فزیکل گیمز کھیلنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اگرچہ آج کی دنیا یکسر بدل چکی ہے اور ٹیکنالوجی کے بغیر گزارا ناممکن سا لگتا ہے، تاہم والدین کی یہ کوشش اس بات کی غماز ہے کہ انسانی جبلت آج بھی سادگی، سکون اور روایتی اقدار کی خواہاں ہے۔ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر اس موضوع پر بحث جاری ہے کہ آیا ڈیجیٹل دور میں رہتے ہوئے نینٹینیز (90s) والا ماحول پیدا کرنا ممکن بھی ہے یا نہیں۔