LIVE
Loading Breaking News...

خلیجی ریاستیں اور آبنائے ہرمز میں ایران کا کنٹرول

News Image
خلیجی ممالک نے آبنائے ہرمز میں ایران کے کنٹرول کو ایک نئی حقیقت کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات تاحال کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔
خلیجی ممالک نے بالآخر آبنائے ہرمز کی صورتحال کو ایک نئی حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا شروع کر دیا ہے جہاں ایران کا اثر و رسوخ اور کنٹرول اب واضح طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوری معاہدے کی امیدیں مدہم پڑتی جا رہی ہیں کیونکہ اس خطے میں نئی شرائط اور زمینی حقائق سامنے آ چکے ہیں۔ عمان کی جانب سے اگرچہ مذاکرات کو مثبت قرار دیا گیا تھا، تاہم ایران نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ آبنائے کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا۔ تہران کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے کے لیے سخت مطالبات پیش کیے گئے ہیں جن پر بین الاقوامی سطح پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، الجزیرہ سمیت مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق جس طرح ایران نے ہرمز کے حوالے سے اپنے اصول بدلے ہیں، اسی طرح اب خلیجی ریاستیں بھی ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور حکمت عملی میں تبدیلیاں لا رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی توانائی کی سپلائی اور بحری تجارت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ دنیا کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے تیل کی ترسیل پر انحصار کرتا ہے۔ اگرچہ سفارتی سطح پر رابطے تاحال جاری ہیں اور عمان سمیت دیگرمفاہمتی قوتیں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ایران کے سخت مؤقف نے معاملات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خلیجی دارالحکومتوں میں اب یہ بات شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ خطے میں دیرپا استحکام کے لیے ایران کے ساتھ زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی نئی پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی۔