World
ٹرمپ کا غزه امن منصوبہ، حماس کی غیر مسلح کاری اور اسرائیل کا ردعمل
ڈونلڈ ٹرمپ کے پندرہ نکاتی غزه امن منصوبے کا دارومدار حماس کی غیر مسلح کاری اور قابض اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء پر ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی طرف سے اس ابتدائی منصوبے کی مخالفت کے باوجود، اسے حتمی مسترد نہیں سمجھا جا رہا۔
امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزه کے تنازع کے حل کے لیے ایک نیا پندرہ نکاتی امن منصوبہ پیش کیا گیا ہے جس کے تحت خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے اہم شرائط رکھی گئی ہیں۔ اس پورے منصوبے کا بنیادی محور حماس کی مکمل غیر مسلح کاری اور اس کے ساتھ ساتھ غزه سے اسرائیلی فوج کا انحصار اور انخلاء قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس منصوبے پر عمل درآمد کے راستے میں کئی سیاسی اور عسکری نوعیت کی رکاوٹیں حائل ہیں جنہیں عبور کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اس پندرہ نکاتی منصوبے پر ابتدائی طور پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور اسے مسترد کرنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ ماننا ہے کہ نیتن یاہو کا یہ ردعمل حتمی لفظ نہیں ہے۔ اسرائیلی حکومت کے اندرونی اختلافات اور اتحادی جماعتوں کے دباؤ کے پیش نظر نیتن یاہو کے لیے تمام اتحادیوں کو ایک پیج پر لانا اور اس منصوبے کو یکسر مسترد کرنا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف عالمی برادری اور خطے کے اہم ممالک اس امریکی کوشش کو قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے پاس اس وقت خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرنے کی محدود حدود ہیں، خاص طور پر جب اسرائیلی قیادت اپنی سکیورٹی ترجیحات کو لے کر سخت مؤقف رکھتی ہے۔ اس صورتحال میں حماس کا ردعمل اور عسکری ونگ کا مستقبل بھی اس پورے امن عمل کی کامیابی یا ناکامی میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا واضح امکان موجود ہے کہ اس منصوبے میں کچھ ترامیم کی جائیں یا پس پردہ سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ میں اضافہ کیا جائے تاکہ غزه میں جاری انسانی بحران کو کم کیا جا سکے اور خطے میں طویل مدتی سکیورٹی کی راہ ہموار کی جا سکے۔