World
لنڈسے گراہم ایران جنگ فوٹیج: نئی دستاویزی فلم کے انکشافات
سامنے آنے والی ایک نئی دستاویزی فوٹیج میں امریکی سیاستدان لنڈسے گراہم کو ایران کے خلاف جنگ کی حمایت کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اس انکشاف کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر سے گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔
امریکی سیاست کے ایوانوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب حال ہی میں سامنے آنے والی کچھ غیر ریلیز شدہ دستاویزی فوٹیج سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ معروف امریکی سیاستدان اور سینیٹر لنڈسے گراہم ماضی میں ایران کے خلاف باقاعدہ جنگ کے حامی رہے ہیں۔ اس فوٹیج نے واشنگٹن کے اندرونی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں پہلے سے ہی مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تناؤ پایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ مناظر ایک ایسی دستاویزی فلم کا حصہ ہیں جو طویل عرصے تک پردہ خفاء میں رکھی گئی تھی اور اب اس کے سامنے آنے سے کئی پرانے راز فاش ہو رہے ہیں۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح امریکی پالیسی ساز خطے میں فوجی کارروائیوں کے لیے مبینہ طور پر راہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات اور اندرونی سوچ سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی قیادت کس طرح بین الاقوامی تنازعات بالخصوص ایران کے معاملے پر جارحانہ حکمت عملی کی حامی رہی ہے۔ اس انکشاف نے بین الاقوامی میڈیا کی توجہ بھی اپنی طرف مبذول کروا لی ہے کیونکہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا تاریخی پس منظر انتہائی پیچیدہ رہا ہے اور اس طرح کے دستاویزات آگ میں تیل کا کام کرتے ہیں۔
دوسری جانب، اس فوٹیج کے منظر عام پر آنے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور جنگ مخالف گروہوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی سوچ خطے کے امن کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر سکتی ہے اور جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ دریں اثنا، لنڈسے گراہم کے دفتر یا ان کے حامیوں کی طرف سے اس نئی فوٹیج پر باضابطہ طور پر کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی گرما گرمی دیکھنے کو ملے گی جو آئندہ کی امریکی خارجہ پالیسی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔