World
زندگی کی تجارت اور جدید معاشرے کے مسائل
موجودہ دور میں انسانی زندگی اور اس کی بنیادی ضروریات کو تجارتی شے بنا دیا گیا ہے جس نے معاشرتی اقدار کو متاثر کیا ہے۔ اس رجحان کے خلاف سنجیدہ علمی اور اخلاقی بحث کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
موجودہ دور میں سرمایہ دارانہ نظام کے تحت زندگی کے ہر شعبے کو تجارتی نفع نقصان کی عینک سے دیکھا جا رہا ہے۔ انسانی بقا سے جڑی بنیادی ضروریات مثلاً صحت، تعلیم اور خوراک کو بھی اب عام منڈی کی طرح اشیاء میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جسے جدید اصطلاح میں زندگی کی تجارت یا کموڈیفیکیشن کہا جاتا ہے۔ اس رجحان کے نتیجے میں انسان اور اس کی قدرتی صلاحیتوں کو محض منافع کمانے کا ایک ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے، جس نے روایتی انسانی اور اخلاقی اقدار کو شدید خط سے دوچار کر دیا ہے۔ معاشرتی ماہرین کے مطابق جب انسانی رشتوں اور بنیادی حقوق کو بھی مارکیٹ فورسز کے تابع کر دیا جائے تو معاشرے میں بے حسی اور عدم مساوات میں ہوشربا اضافہ ہوتا ہے۔ معاشی ترقی کے نام پر جاری اس عمل نے غریب اور امیر کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کر دیا ہے کیونکہ عام انسان کے لیے زندگی گزارنا دن بہ دن مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب اس صورتحال نے فلسفیانہ اور اخلاقی سطح پر بھی کئی بڑے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا اصرار ہے کہ اگر اس بے لگام تجارتی دوڑ کو ضابطے میں نہ لایا گیا تو انسانیت اپنے بنیادی جوہر سے محروم ہو جائے گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھر کے مفکر، ماہرینِ معاشیات اور پالیسی ساز اس بات پر غور کریں کہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی فلاح اور اخلاقیات کو کیسے بچایا جائے تاکہ زندگی کو محض ایک پروڈکٹ کے طور پر دیکھنے کے بجائے اس کے اصل وقار کو بحال کیا جا سکے۔