Health
شدید گرم موسم کے انسانی جسم پر اثرات اور صحت کے خطرات
موسم گرما کی شدید گرمی ہر شخص کو متاثر کر سکتی ہے لیکن بعض افراد کے لیے یہ سنگین طبی خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین صحت نے گرمی کی لہر کے دوران احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا ہے۔
موسم گرما کی آمد اور درجہ حرارت میں نمایاں اضافے کے ساتھ ہی انسانی جسم پر گرمی کے اثرات کے حوالے سے بحث شروع ہو جاتی ہے۔ ماہرین صحت کے مطابق شدید گرم موسم ہر عمر کے فرد کو کسی نہ کسی طرح متاثر کرتا ہے، تاہم کچھ افراد کے لیے یہ حالات انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ جب ماحول کا درجہ حرارت بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے تو جسم کا اندرونی درجہ حرارت برقرار رکھنے والا نظام یعنی تھرمو ریگولیشن سسٹم شدید دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ جسم اپنے آپ کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پسینے کا اخراج کرتا ہے جس کے نتیجے میں جسم میں پانی اور اہم نمکیات کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
گرمی کے اس تناؤ سے ہر انسان یکساں طور پر متاثر نہیں ہوتا۔ طبی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بزرگ افراد، چھوٹے بچے، اور پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا مریض گرمی کے منفی اثرات کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ افراد جو کھلے آسمان تلے یا سخت دھوپ میں کام کرتے ہیں، ان میں ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور تھکن جیسی علامات ظاہر ہونے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے بلڈ پریشر اچانک گر سکتا ہے، سر چکرا سکتا ہے اور بعض صورتوں میں انسان بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ دن کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے اور جسم میں پانی کی مقدار کو متوازن رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ سیال اشیاء اور پانی کا استعمال کرنا چاہیے۔ ہلکے رنگ کے اور ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہننا جسم کو گرمی سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اگر کسی شخص میں شدید گرمی کی وجہ سے طبیعت بگڑنے کی علامات ظاہر ہوں تو اسے فوری طور پر کسی سایہ دار جگہ پر منتقل کیا جانا چاہیے اور طبی امداد کے لیے فوری رجوع کرنا چاہیے۔