World
یوکرین کی چالیس روزہ جنگی مہم اور روسی ردعمل
یوکرین کی حالیہ فوجی مہم کو چالیس روز گزر جانے کے باوجود جنگ کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ کیلیفورنیا اور دیگر مغربی اتحادیوں کی جانب سے امداد کے باوجود کییف کو روس کی جانب سے شدید ردعمل اور دفاعی میزائلوں کی قلت کا سامنا ہے۔
یوکرین کی حالیہ چالیس روزہ فوجی مہم تاحال اس جنگ کو کسی حتمی انجام یا امن کے قریب لانے میں ناکام رہی ہے۔ تنازعے کے طول پکڑنے اور فریقین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے میں انسانی و عسکری بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ اگرچہ یوکرین کی افواج نے مختلف محاذوں پر اپنی حکمت عملی کو بہتر بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے، تاہم زمینی حقائق اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ مہم توقعات کے مطابق نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
دوسری جانب کییف کو ایک ایسے وقت میں انتہائی ظالمانہ اور طاقتور روسی ردعمل کا سامنا ہے جب اس کے پاس موجود فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، یوکرین کی فضائی حدود کو روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جو عسکری سازوسامان درکار ہے، اس کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ اگر فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر مزید میزائل فراہم نہ کیے گئے تو یوکرین کے بڑے شہر اور اہم عسکری تنصیبات روسی حملوں کے سامنے مزید غیر محفوظ ہو جائیں گے۔
مغربی اتحادیوں اور نیٹو ممالک کی جانب سے یوکرین کو مسلسل عسکری و مالی امداد فراہم کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن زمینی سطح پر سپلائی لائنز اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی میں تاخیر نے کییف کی مشکلات کو دوچند کر دیا ہے۔ روس کی جانب سے مسلسل جارحانہ کارروائیوں اور یوکرینی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جب تک یوکرین کو فضائی دفاعی نظام کے لیے خاطر خواہ اور بروقت امداد نہیں ملتی، اس وقت تک اس طویل جنگ میں کسی مثبت پیشرفت کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا۔