LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا میں جنگلات کی آگ اور اسکولوں کی بندش

News Image
انڈونیشیا میں جنگلات کی ہولناک آگ پر قابو پانے کے لیے حکام کی جانب سے فوری طور پر کلاؤڈ سیڈنگ طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔ آلودگی کی خطرناک سطح اور خراب ہوا کے معیار کی وجہ سے ملک کے دجنوں اسکول تاحال بند رکھے گئے ہیں۔
انڈونیشیا میں جنگلات میں لگنے والی آگ کو پھیلنے سے روکنے اور اس پر قابو پانے کے لیے متعلقہ حکام نے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں فضا میں مصنوعی بارش برسانے اور بادلوں کی تشکیل کے لیے کلاؤڈ سیڈنگ طیارے میدان میں اتار دیے گئے ہیں تاکہ آگ پر جلد از جلد قابو پایا جا سکے۔ جنگلات کی آگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید دھوئیں اور زہریلی گیسوں کی وجہ سے ماحول شدید متاثر ہوا ہے، جس کے پیش نظر حکام نے حفاظتی اقدامات کے تحت دجنوں اسکولوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ موسمیات اور ماحولیاتی تحفظ کے حکام کا کہنا ہے کہ آلودگی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جو خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ خراب ہوا کے معیار کے باعث شہریوں کو بلاضرورت گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ متاثرہ علاقوں میں فضا کو صاف کرنے کے لیے ہنگامی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔ کلاؤڈ سیڈنگ کے ذریعے بارش برسانے کی کوششیں اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں تاکہ آگ کی شدت کو کم کیا جا سکے اور ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسم کی خشک صورتحال اور تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ بجھانے کے کام میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تاہم فائر فائٹرز اور امدادی ٹیمیں دن رات اس چیلنج سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب والدین اور تعلیمی حلقوں میں اس صورتحال پر تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ اسکولوں کی بندش سے بچوں کی تعلیم کا سلسلہ متاثر ہو رہا ہے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ جیسے ہی ہوا کا معیار بہتر ہوگا اور صورتحال معمول پر آئے گی، تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔