World
امریکی دفاعی بجٹ اور جنگی اخراجات پر اہم رپورٹ
امریکہ کی جانب سے جنگی اخراجات اور دفاعی بجٹ پر اٹھنے والے سوالات میں تیزی آ گئی ہے۔ پینٹاگون کے حالیہ مطالبات نے ملک کی مالیاتی سمت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکہ میں ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ ملک کے وسائل کا ایک بہت بڑا حصہ جنگی فنڈنگ اور دفاعی اخراجات کی نذر کیوں ہو رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی پینٹاگون کی جانب سے کانگریس سے مزید فنڈز کی طلب نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے کہ آیا دفاعی بجٹ کا یہ بے دریغ استعمال ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما ہیں۔ ماہرینِ معاشیات اور قانون ساز اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اتنی بڑی رقم کو فلاحی کاموں کے بجائے جنگی تیاریوں پر خرچ کرنے کے طویل المدتی اثرات کیا ہوں گے۔
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں پینٹاگون کے مطالبات کو انتہائی حساس نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ اور اتحادیوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید دفاعی آلات اور تیاریوں کی اشد ضرورت ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے نہ صرف خطے میں کشیدگی مزید بڑھتی ہے بلکہ امریکی معیشت پر بھی بلاوجہ کا بوجھ پڑتا ہے، جو پہلے ہی اندرونی مالیاتی چیلنجز سے نبرد آزما ہے۔
امریکہ کا دفاعی بجٹ دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے، اور اس کا بڑا حصہ جنگی تیاریوں، نئی عسکری ٹیکنالوجی اور فوج کی نقل و حرکت پر خرچ ہوتا ہے۔ عام عوام اور ٹیکس دہندگان کی جانب سے بھی اب یہ سوالیہ نشان لگائے جا رہے ہیں کہ کیا ان کی خون پسینے کی کمائی کا یہ پیسہ درست سمت میں خرچ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے ان نئے مطالبات کے بعد کانگریس میں سخت بحث متوقع ہے جہاں مخالفت کرنے والے ارکان اس بجٹ میں کٹوتیاں کرنے اور فنڈز کو گھریلو ترقیاتی منصوبوں کی طرف منتقل کرنے کا پرزور مطالبہ کر رہے ہیں۔