Pakistan
کراچی میں سوشل میڈیا پر جھوٹی خبریں پھیلانے پر نوجوان کو سزا
کراچی کی عدالت نے سوشل میڈیا پر جھوٹی معلومات پھیلا کر اشتعال انگیزی پھیلانے والے ایک نوجوان کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔ تاہم، ملزم کے اکیلے کفیل ہونے اور عدالت میں اپیل کرنے پر اسے پروبیشن آفیسر کی نگرانی میں رہا کر دیا گیا۔
کراچی کے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے سوشل میڈیا پر جھوٹی اور من گھڑت معلومات پھیلا کر عوام میں اشتعال پیدا کرنے کے الزام میں ایک شخص کو ایک سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر یہ فیصلہ سنایا لیکن ملزم کی طرف سے رحم کی اپیل اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ وہ اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے اور نادانی یا ناخواندگی کی وجہ سے یہ جرم سرزد ہوا، اسے پروبیشن آفیسر کی تحویل میں رہا کرنے کا حکم دیا۔ مجسٹریٹ گلریز میمن نے ملزم محمد ابراہیم کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کی دفعہ 26-اے کے تحت ایک سال قید اور دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نے فروری 2025 کے دوران ایک سندھ قوم پرست جماعت کے احتجاج کے تناظر میں تیل کے ٹینکرز پر حملوں کیغلاف آن لائن مہم چلائی تھی اور ریاست مخالف مواد شیئر کیا تھا جس کا مقصد عوامی خوف و ہراس پھیلانا تھا۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اس سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا تھا اور اس کے موبائل فون سے قابلِ اعتراض مواد اور ڈیجیٹل شواہد برآمد کیے تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ ملزم تقریباً چھبیس سے ستائیس سال کا نوجوان ہے اور اس کا پچھلا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اتنے کم عمر اور پہلی بار جرم کرنے والے شخص کو عادی مجرموں کے ساتھ جیل میں رکھنا جدید تعزیراتی قانون کے اصلاحی مقاصد کے منافی ہوگا۔ اس لیے عدالت نے پروبیشن آف آفنڈرز آرڈیننس 1960 کی دفعہ 5 کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے محمد ابراہیم کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے کے عوض ایک سال کے لیے پروبیشن آفیسر کراچی ایسٹ کی نگرانی میں رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے ملزم کو ہدایت کی کہ وہ پروبیشن کے دوران اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرے اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی آن لائن سرگرمیوں سے گریز کرے۔