Business
پاکستان میں ڈسکو کی نجکاری اور بجلی کی قیمتوں کا مستقبل
پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں یعنی ڈسکو کی نجکاری پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اور حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اس قدم سے صارفین کو ریلیف ملے گا یا نہیں۔
پاکستان میں توانائی کے شعبے کے دیرینہ مسائل بالخصوص بجلی کی بلند قیمتوں اور لائن لاسز پر قابو پانے کے لیے تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکو) کی نجکاری کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ حکومت اور معاشی ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا ان اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے صارفین کو سستی بجلی فراہم کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ پاکستان میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں طویل عرصے سے مالی مشکلات، سرکلر ڈیٹ اور انتظامی نااہلی کا شکار چلی آ رہی ہیں۔
حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے نہ صرف انتظامی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ بجلی چوری اور لائن لاسز میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ جب کمپنیاں نجی ہاتھوں میں جاتی ہیں تو وہاں منافع اور نقصان کا حساب کتاب سخت ہوتا ہے جس کی وجہ سے کرپشن اور غیر ضروری اخراجات میں کمی واقع ہوتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ نجکاری کا یہ عمل اتنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ اس میں مزدور یونینز کے تحفظات اور ضوابطی امور جیسے بڑے چیلنجز بھی شامل ہیں۔
عوام کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا نجکاری کے فوری بعد بجلی کے بلوں میں کوئی خاطر خواہ کمی آئے گی؟ ماہرینِ معاشیات کے مطابق نجکاری کے فوائد طویل المدتی ہوتے ہیں اور فوری طور پر نرخوں میں بڑی کمی کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ، حکومت کو نجکاری کے دوران ایسے ریگولیٹری فریم ورک کی ضرورت ہوگی جو نجی اجارہ داری کو روک سکے اور عام صارف کے حقوق کا بھرپور تحفظ یقینی بنائے۔
آنے والے دنوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مزید عملی اقدامات اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ اگر نجکاری کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے دیگر بنیادی مسائل جیسے کہ مہنگے پاور پرچیز ایگریمنٹس پر بھی نظرثانی کی گئی، تو یہ اقدام ملک کی ڈگمگاتی ہوئی معیشت اور توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔