LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ لبنان براہ راست پروازوں پر پابندی کی وجوہات

News Image
امریکہ اور لبنان کے درمیان براہ راست پروازوں پر عائد طویل پابندی کی تاریخی وجوہات اور سکیورٹی خدشات ہیں۔ اس پابندی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ہوائی سفر پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
امریکہ اور لبنان کے درمیان براہ راست پروازوں کی معطلی یا پابندی ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتی ہے جس کی جڑیں خطے کی پیچیدہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال میں پیوست ہیں۔ یہ پابندی گزشتہ چار دہائیوں سے نافذ چلی آ رہی ہے اور اس کے پیچھے اہم ترین محرکات ہوابازی کی حفاظت اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی تنازعات ہیں۔ اس طویل عرصے کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے ہیں لیکن براہ راست فضائی رابطے کی بحالی کا معاملہ ہمیشہ سے ایک حساس ترین موضوع رہا ہے جس پر سکیورٹی ماہرین اور حکام گہری نظر رکھتے ہیں۔ سنہ 1980 کی دہائی کے اواخر میں مشرق وسطیٰ بالخصوص لبنان میں پیدا ہونے والے شدید سکیورٹی بحرانوں اور طیارہ اغوا کرنے کے واقعات کے بعد امریکی حکومت نے سخت ترین اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ انھی حفاظتی خدشات کے پیش نظر امریکی فیول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اور دیگر متعلقہ اداروں نے بیروت سے آنے والی یا وہاں جانے والی براہ راست پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی تاکہ امریکی شہریوں اور مسافروں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ دہشت گردانہ خطرے کو روکا جا سکے۔ اس فیصلے کے بعد سے دونوںممالک کے درمیان براہ راست پروازیں معطل ہو گئیں اور مسافروں کو سفر کے لیے دیگرممالک کے ہوائی اڈوں پر رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ اس پابندی کے نفاذ کے بعد سے اب تک لبنان اور امریکہ کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ براہ راست پرواز نہ ہونے کی وجہ سے مسافروں کا وقت زیادہ ضائع ہوتا ہے اور سفری اخراجات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ تجارتی اور سفارتی حلقوں کی جانب سے کئی مرتبہ اس پابندی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ تارکین وطن اور کاروباری افراد کو سہولت فراہم کی جا سکے، تاہم سکیورٹی کے سخت پروٹوکولز اور خطے کے زمینی حالات اب بھی اس راستے کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔