LIVE
Loading Breaking News...

روسی حراست: یوکرین کے قیدیوں کی جانب سے تشدد کے انکشافات

News Image
یوکرین کے سابق قیدیوں نے روسی حراست کے دوران شدید جسمانی تشدد اور جنسی زیادتی کا سامنا کرنے کی خوفناک داستانیں بیان کی ہیں۔ یہ انکشافات جنگی قیدیوں کے حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
یوکرین سے تعلق رکھنے والے سابق قیدیوں نے روسی حراست کے مراکز میں اپنے اوپر ہونے والے انسانیت سوز مظالم اور جنسی زیادتی کے ہولناک واقعات کھل کر بیان کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگی قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بین الاقوامی سطح پر سخت تشویش پائی جاتی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انہیں حراست کے دوران نہ صرف جسمانی بلکہ شدید ذہنی اذیت کا بھی نشانہ بنایا گیا، جو جنگی قوانین اور جنیوا کنونشن کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ رپورٹس کے مطابق روسی حراست میں رہنے والے ان افراد نے بتایا کہ انہیں تفتیش کے نام پر گھنٹوں غیر انسانی حالات میں رکھا جاتا تھا اور مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ ان بیانات میں جنسی زیادتی اور دھمکیاں دینے کے واقعات بھی شامل ہیں، جن سے متاثرہ افراد کی جسمانی اور ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ یوکرین کے حکام اور بین الاقوامی اداروں نے ان الزامات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں جنگی جرائم کے زمرے میں رکھنے پر زور دیا ہے تاکہ ذمہ داران کا احتساب کیا جا سکے۔ دوسری جانب، انسانی حقوق کے بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران دونوں طرف کے قیدیوں کے حالات کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے، تاہم روسی حراست خانوں سے آنے والی یہ کہبری انتہائی تشویشناک ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر تنظیمیں اس بات کی مسلسل اپیل کر رہی ہیں کہ تمام قیدیوں تک آزادانہ رسائی دی جائے تاکہ ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کی شفاف تحقیقات ہو سکیں۔ اس تازہ ترین انکشاف کے بعد دنیا بھر میں انسانی حقوق کے محافظین کی طرف سے روسی حکام پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔