LIVE
Loading Breaking News...

پولیس کونسل ہارپر کی والدہ کا نمبر 10 کے رابطے پر ردعمل

News Image
ڈیبی ایڈلم نے کہا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے کوئی 'خصوصی کیس' نہیں چاہتیں بلکہ ہنگامی خدمات کے کارکنوں کے قاتلوں کو استثنیٰ سے مستثنیٰ دیکھنا چاہتی ہیں۔ حالیہ رابطے کے بعد انہیں انصاف کی فراہمی کے حوالے سے نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
برطانیہ میں پیش آنے والے ایک دردناک واقعے کے بعد پولیس کونسل ہارپر کی والدہ ڈیبی ایڈلم نے برطانوی حکومت کے مرکزی دفتر نمبر 10 سے ہونے والے حالیہ رابطے پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے کوئی 'خصوصی کیس' یا رعایت نہیں چاہتیں، بلکہ ان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ڈیوٹی کے دوران جان کی بازی ہارنے والے ہنگامی خدمات کے کارکنوں (ایمرجنسی ورکرز) کے قاتلوں کو قانون کے تحت کسی بھی قسم کی نرمی یا استثنیٰ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ڈیبی ایڈلم طویل عرصے سے اس بات کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فرنٹ لائن ورکرز کے تحفظ کے لیے قوانین کو مزید سخت بنایا جائے۔ ان کا ماننا ہے کہ مجرموں کے لیے سزائیں اتنی سخت ہونی چاہئیں کہ آئندہ کوئی بھی قانون شکنی کرتے ہوئے دو بار سوچے اور ہنگامی خدمات انجام دینے والوں کی جانوں کا تقدس پامال نہ کیا جا سکے۔ حکومتی سطح پر اس معاملے پر توجہ دیے جانے کے بعد ان کے اندر یہ امید جاگی ہے کہ شاید اب قانون میں مطلوبہ تبدیلیاں لائی جا سکیں گی۔ حالیہ رابطے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی جدوجہد صرف ان کے اپنے بیٹے کے لیے نہیں بلکہ ملک بھر کے ان تمام بہادر کارکنوں کے لیے ہے جو روزانہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر عوام کی خدمت کرتے ہیں۔ ماہرین اور عوامی حلقوں کی طرف سے بھی اس مہم کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے اہم قانون سازی عمل میں لائی جائے گی تاکہ فرنٹ لائن ورکرز کو مزید تحفظ فراہم کیا جا سکے اور مجرموں کو کڑی سزائیں دی جا سکیں۔