Politics
بھارتی نوجوان نسل اور والدین میں سیاسی اختلاف اور آر ایس ایس کا تنازع
بھارت میں نوجوان نسل اپنے دائیں بازو کے حامی والدین کی سیاسی سوچ اور آر ایس ایس کی نظریات کو چیلنج کر رہی ہے۔ گھروں کے اندر ہونے والی یہ بحثیں ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی اور سماجی پولرائزیشن کی عکاس ہیں۔
بھارت میں ایک نئی سیاسی اور سماجی تبدیلی اس وقت دیکھنے میں آ رہی ہے جب ملک کی نوجوان نسل یعنی 'جن زیڈ' (Gen Z) نے اپنے والدین کی روایتی سیاسی وابستگیوں کو گھر کی چار دیواری کے اندر چیلنج کرنا شروع کر دیا ہے۔ خاص طور پر ایسے خاندانوں میں جہاں والدین حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) یا راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے حامی ہیں، وہاں اب نوجوان نسل ان کی پالیسیوں اور نظریات پر کھل کر بحث کر رہی ہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ وہ نفرت کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں اور ملک میں روزگار، بہتر تعلیمی اصلاحات اور تمام طبقوں کے لیے مساوی مواقع کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اس صورتحال نے روایتی ہندوستانی خاندانی اقدار کو بھی ایک نئے امتحان میں ڈال دیا ہے جہاں بچوں اور والدین کے درمیان احترام کا رشتہ اب سیاسی نظریات کی بھٹی سے گزر رہا ہے۔ نوجوانوں کا موقف ہے کہ ملک کا موجودہ سیاسی ماحول معاشرے میں تقسیم پیدا کر رہا ہے جس سے ان کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ وہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تاریخی حقائق اور موجودہ حالات کا تجزیہ کر رہے ہیں، جو ان کے والدین کے پروپیگنڈا سے ہٹ کر ایک مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ دوسری طرف، بی جے پی اور آر ایس ایس کے حامی والدین اپنے سیاسی موقف پر قائم ہیں اور وہ اپنی قوم پرست سوچ کو درست قرار دیتے ہیں، جس کی وجہ سے خاندانی بحثیں اکثر طویل اور تلخ مباحثوں میں بدل جاتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ آنے والے دنوں میں بھارت کی سیاست میں نوجوانوں کا کردار روایتی خاندانی وابستگیوں سے ہٹ کر زیادہ انفرادی اور نظریاتی بنیادوں پر استوار ہوگا۔ تعلیمی اداروں کے مسائل اور ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے نوجوانوں کو حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگرچہ یہ تناؤ فی الحال گھروں تک محدود ہے، لیکن اس کے اثرات وسیع تر سیاسی منظرنامے پر بھی پڑ سکتے ہیں کیونکہ یہی نوجوان مستقبل کے ووٹر ہیں۔