World
شام کے معزول صدر بشار الاسد کو غیبت میں سزائے موت
شام کی ایک عدالت نے سابق صدر بشار الاسد کو خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے پر غیبت میں سزائے موت سنا دی ہے۔ اس کے علاوہ بشار الاسد کے دور کے ایک اور اعلیٰ عہدیدار عاطف نجیب کو بھی درعا میں انسانیت سوز جرائم پر سزائے موت دی گئی ہے۔
شام کی ایک عدالت نے منگل کے روز ملک کے سابق حکمران بشار الاسد کو غیبت میں سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔ یہ تاریخی فیصلہ ملک میں طویل عرصے تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے الزامات ثابت ہونے کے بعد صادر کیا گیا۔ بشار الاسد دسمبر 2024 میں دارالحکومت دمشق کے باغیوں کے قبضے میں جانے کے بعد اپنے اہل خانہ کے ہمراہ روس فرار ہو گئے تھے، جہاں انہوں نے پناہ لے رکھی ہے۔ عبوری حکام کی جانب سے سابق حکومت کے اہم عہدیداروں کے خلاف مقدمات چلانے کا سلسلہ رواں سال شروع کیا گیا تھا، اور بشار الاسد کے خلاف یہ فیصلہ اسی سلسلے کی پہلی بڑی کڑی ہے۔ اس عدالتی کارروائی کے دوران نہ صرف سابق صدر بلکہ ان کے قریبی ساتھیوں اور حکومتی کارندوں کو بھی کٹہرے میں لایا گیا ہے۔ عدالت نے اسی مقدمے میں بشار الاسد کے دور کے ایک اور اہم سکیورٹی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی سزائے موت سنائی ہے۔ عاطف نجیب کو سنہ 2011 کے شامی احتجاجی تحریک کے مرکز سمجھے جانے والے صوبے درعا میں سیاسی سکیورٹی کا سربراہ رہنے کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب پایا گیا۔ عاطف نجیب، جو بشار الاسد کے کزن بھی ہیں اور جنہیں گزشتہ سال جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا، پر قتل، پندرہ سال سے کم عمر بچوں کے ارادہ قتل اور تشدد کے نتیجے میں اموات جیسے سنگین الزامات ثابت ہوئے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات واضح طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں، جس پر قانون کے مطابق سخت ترین سزا یعنی موت کا فیصلہ سنایا گیا۔ ماہرین کے مطابق شام کی عبوری حکومت کی طرف سے سابق حکمرانوں اور ان کے کارندوں کے خلاف یہ فیصلے ملک میں انصاف کی فراہمی اور ماضی کے مظالم کے احتساب کی طرف ایک اہم قدم کی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم بشار الاسد کی روس میں موجودگی کی وجہ سے اس فیصلے پر فوری عمل درآمد کا امکان فی الحال موجود نہیں ہے۔