World
افغانستان میں بچیوں کی تعلیم پر پابندی اور افغان باپوں کا شدید کرب
افغانستان میں طالبان کی جانب سے بچیوں کی ثانوی تعلیم پر پابندی کے بعد والدین شدید ذہنی کرب اور مایوسی کا شکار ہیں۔ متعدد افغان باپوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ذہینٹیٹیو بچیوں کا مستقبل تاریک دیکھ کر اندر سے ٹوٹ چکے ہیں۔
افغانستان میں طالبان کی حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی ثانوی تعلیم پر عائد پابندی کے بعد ملک بھر کے والدین شدید ذہنی اذیت، مایوسی اور بے بسی کا شکار ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، ایسے لاتعداد باپ جو اپنی بیٹیوں کو اسکولوں سے باہر ہوتے دیکھ رہے ہیں، اندر سے ٹوٹ چکے ہیں۔ اگرچہ افغان حکام اس پابندی کو اسلامی شریعت کی اپنی تشریح سے جوڑتے ہیں، لیکن گہرے مذہبی رجحان رکھنے والے کئی والدین بھی اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قرآنی تعلیمات میں کہیں یہ نہیں لکھا کہ علم صرف مردوں کے لیے ہے۔
مارچ 2022 میں لڑکیوں کے لیے سیکنڈری اسکولوں کے دروازے بند کر دیے گئے تھے اور بعد ازاں یونیورسٹیوں میں بھی جوان خواتین کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اس پابندی کی وجہ سے کم از کم ایک ملین لڑکیاں براہ راست متاثر ہوئی ہیں۔ انجینئر احمد، جن کی اہلیہ خود ایک سیکنڈری اسکول میں ریاضی کی پروفیسر تھیں اور اب پڑھانے سے محروم ہیں، کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ان کی بیٹیاں ان پڑھ رہ جائیں گی۔ ان کی بڑی بیٹی پرائمری کے آخری سال میں ہے اور وہ مہنگے پوشیدہ کورسز یا بیرون ملک منتقلی کے تمام راستے بند ہونے پر شدید پریشان ہیں۔
اسی طرح کابل صوبے کے ایک چھوٹے سے قصبے کے ڈاکٹر محمد نے بتایا کہ وہ اپنی دو بیٹیوں کو بہترین یونیورسٹیوں میں دیکھنا چاہتے تھے، کیونکہ افغانستان کی ترقی کے لیے صرف گھروں تک محدود نہیں بلکہ خواتین کا باہر نکلنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ سرحدیں بند ہونے اور خفیہ اسکولوں کے بھاری اخراجات کے باوجود اپنی بیٹیوں کو پڑھانے کے لیے ہر ممکنہ کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔ دوسری طرف، کابل اور قندهار کے دیگر والدین بھی اپنی بچیوں کے سوالات کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں جب وہ فلکیات یا مستقبل کے بارے میں پوچھتی ہیں لیکن انہیں صرف یہ جواب دینا پڑتا ہے کہ چھٹی جماعت کے بعد ان کا تعلیمی سفر رک جائے گا۔
ایک والد نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ تہوار کے دن بھی ان کی تیرہ سالہ بیٹی اپنے کمرے میں روتی رہی کیونکہ وہ نہ صرف اسکول سے محروم ہو چکی ہے بلکہ تفریحی پارکوں میں جانے پر بھی پابندی عائد ہے۔ افغان معاشرے کے یہ باپ اپنی بیٹیوں کے سامنے مسکرانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ والدین کے اندرونی اضطراب سے ناواقف رہیں، لیکن بند دروازوں کے پیچھے وہ اپنی بے بسی پر آنسو بہانے پر مجبور ہیں۔