Technology
آئی فون 18 پرو کی پیداواری لاگت اور ڈی ریم کے اثرات
نئی رپورٹ کے مطابق ایپل کے آنے والے آئی فون 18 پرو کی پیداواری لاگت میں ڈی ریم کا حصہ نمایاں طور پر بڑھ جائے گا۔ اس اضافے سے کمپنی کے منافع کے مارجن پر شدید دباؤ پڑنے کی توقع کی جارہی ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا سے موصول ہونے والی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ایپل کے آنے والے فلیگ شپ اسمارٹ فون آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کے مینوفیکچرنگ مارجنز کو مستقبل میں شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ سنہ 2027 کی پہلی ششماہی تک صرف ڈی ریم (DRAM) کی سپلائی لاگت کل بل آف میٹریل (BOM) کا تقریباً 42 فیصد حصہ بن جائے گی، جو کہ ایپل کے لیے ایک بڑا مالی چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ جب ایپل اپنی اے 20 پرو چپ کی پیکیجنگ اور دیگر تیاریوں کے لیے ڈی ریم کی سپلائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تو اس کے اخراجات میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایس او سی (SoC) اور او ایل ای ڈی (OLED) اسکرینوں کی لاگت نسبتاً بہت کم محسوس ہوتی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میموری کے اجزاء اب اسمارٹ فون کی مجموعی تیاری میں سب سے مہنگے ترین حصے بنتے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی وجہ سے ایپل کو یا تو اپنی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوگا یا پھر اپنے پرافٹ مارجنز پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ اسمارٹ فون انڈسٹری میں میموری چپس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں تمام بڑے مینوفیکچررز کے لیے درد سر بنی ہوئی ہیں، تاہم ایپل جیسے بڑے برانڈ پر اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔
آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ایپل اس مالی بوجھ کو کس طرح سنبھالتا ہے اور کیا صارفین کو اس کا براہ راست اثر دیکھنا پڑتا ہے یا نہیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود، کمپنی کی جانب سے ہائی اینڈ فیچرز اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔