Technology
وسطی ایشیا میں پہلی بغیر پائلٹ مسافر بردار پرواز کامیاب
ای ہینگ ہولڈنگز نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں اپنے فلیگ شپ EH216-S کے ذریعے وسطی ایشیا کی پہلی بغیر پائلٹ مسافر بردار ای وی ٹی او ایل پرواز کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔ یہ سنگ میل خطے میں جدید ہوائی نقل و حرکت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
ای ہینگ ہولڈنگز لمیٹڈ نے جو کہ ایڈوانسڈ ایئر موبিলিٹی یعنی جدید ہوائی نقل و حرکت کی ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں ممتاز مقام رکھتی ہے، قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ کمپنی نے اپنے جدید اور فلیگ شپ بغیر پائلٹ کے مسافر بردار ہوائی جہاز ایچ 216 ایس (EH216-S) کے ذریعے وسطی ایشیا کی پہلی کامیاب پرواز مکمل کر کے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ پرواز جدید ہوائی نقل و حرکت کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے خطے میں ٹرانسپورٹ کے مستقبل کے حوالے سے نئی راہیں کھل گئی ہیں۔
اس آزمائشی پرواز کا انعقاد آستانہ کے قلب میں کیا گیا جہاں حکومتی شخصیات، ماہرین اور شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود تھی تاکہ اس منفرد اور جدید ٹیکنالوجی کے مظاہرے کا براہ راست مشاہدہ کیا جا سکے۔ ایچ 216 ایس (EH216-S) دنیا کا پہلا ایسا بغیر پائلٹ کا خودکار ہوائی جہاز ہے جس نے تجارتی پیمانے پر انسانی نقل و حرکت کے لیے تمام ضروری سرٹیفیکیشنز حاصل کیے ہیں۔ اس پرواز کی کامیابی سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ بغیر پائلٹ کی یہ ٹیکنالوجی اب صرف خواب نہیں بلکہ عملی حقیقت بن چکی ہے جو مستقبل کے شہروں میں ٹریفک کے مسائل کا مؤثر حل فراہم کرے گی۔
قازقستان کے حکام نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آستانہ میں اس جدید ترین ٹیکنالوجی کا کامیاب تجربہ ملک کے تکنیکی اور معاشی وژن کا عکاس ہے۔ اس پیش رفت سے نہ صرف قازقستان میں جدید ہوائی نقل و حرکت کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ ملے گا بلکہ وسطی ایشیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی اس طرح کے جدید پراجیکٹس شروع کرنے کی راہیں ہموار ہوں گی۔ ای ہینگ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں پائیدار، محفوظ اور ماحول دوست ہوائی سفر کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں اور آستانہ کی یہ پرواز اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ بغیر پائلٹ کی مسافر بردار پروازیں آنے والے برسوں میں دنیا بھر کے بڑے شہروں میں سفری نظام کا نقشہ بدل کر رکھ دیں گی۔ روایتی ٹرانسپورٹ کے برعکس یہ گاڑیاں بجلی پر چلتی ہیں جس سے کاربن کے اخراج میں نمایاں کمی آتی ہے اور ٹریفک کی بھیڑ سے نجات ملتی ہے۔ ای ہینگ کی اس کامیابی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ وسطی ایشیا اور دنیا کے دیگر خطوں میں اس طرح کی جدید ہوائی سواریوں کے تجارتی استعمال کے لیے ضابطہ کار کی تیاریوں میں مزید تیزی آئے گی۔