LIVE
Loading Breaking News...

ڈیجیٹل شناخت کے نظام میں عالمی باہم مطابقت کی اہمیت

News Image
دنیا بھر کی حکومتیں ڈیٹا کی رازداری اور قومی سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے تیزی سے ڈیجیٹل شناخت کا نفاذ کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی باہم مطابقت کے بغیر یہ نظام اپنے مکمل اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔
دنیا بھر کی حکومتیں ڈیٹا کی رازداری اور قومی سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے تیزی سے ڈیجیٹل شناخت کا نفاذ کر رہی ہیں۔ جیسے جیسے اس کا استعمال بڑھ رہا ہے، ایک تخمینے کے مطابق دنیا کی دو تہائی سے زائد آبادی اس نظام کے دائرہ کار میں آ جائے گی۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس نظام میں بین الاقوامی سطح پر باہم مطابقت یا انٹرآپریبلٹی کو یقینی نہ بنایا گیا، تو یہ ڈیجیٹل شناخت اپنے اصل مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو سکتی ہے۔ مختلف ممالک میں الگ الگ سسٹمز کے ہونے کی وجہ سے شہریوں کو سرحد پار خدمات حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل گورننس اور آن لائن خدمات تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل آئی ڈی کو بنیادی اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ حکومتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ اس سے نہ صرف جعل سازی کی روک تھام میں مدد ملے گی بلکہ شہریوں کو سرکاری اور نجی خدمات تک تیز تر رسائی بھی حاصل ہوگی۔ اس کے باوجود، تکنیکی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہ سسٹمز آپس میں بات چیت کرنے یا ڈیٹا شیئر کرنے کے قابل نہیں ہوں گے، تو عالمی سطح پر ایک ڈیجیٹل رکاوٹ پیدا ہو جائے گی۔ اس سے نہ صرف بین الاقوامی تجارت متاثر ہوگی بلکہ بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کو بھی توثیق کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس مسئلے کا حل ایک ایسے مشترکہ عالمی فریم ورک کی تیاری میں مضمر ہے جو مختلف ممالک کے ڈیجیٹل شناخت کے پلیٹ فارمز کو باہم منسلک کر سکے۔ اس مقصد کے لیے بین الاقوامی اداروں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ سیکیورٹی اور پرائیویسی کے عالمی معیارات وضع کیے جا سکیں۔ جب تک شناخت کے یہ نظام ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوتے، تب تک ڈیجیٹل آئی ڈی کا وہ وعدہ ادھورا رہے گا جو شہریوں کو ایک محفوظ، تیز رفتار اور عالمی سطح پر قابل قبول شناخت فراہم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔