Business
اسٹاک مارکیٹ میں مندی اور سرمایہ کاری کی بہترین حکمت عملی
موجودہ سال کے دوران ایس اینڈ پی 500 اور نیس ڈیک انڈیکس میں شاندار اضافہ دیکھا گیا ہے تاہم وفاقی ریزرو کی جانب سے شرح سود میں ممکنہ اضافے سے مارکیٹ کی رفتار سست ہو سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس قسم کے حالات میں دانشمندانہ فیصلے کرنے والے سرمایہ کار طویل مدت میں نمایاں منافع حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔
موجودہ سال کے دوران وسیع پیمانے پر پھیلے ہوئے ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 13 فیصد جب کہ ٹیکنالوجی کے شعبے سے بھرپور نیس ڈیک کمپوزٹ انڈیکس میں 15 فیصد تک کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں اور سرمایہ کاروں کے لیے یہ صورتحال انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے، کیونکہ مارکیٹ نے حالیہ مہینوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ تاہم، مالیاتی منڈیوں کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ تیزی مستقبل میں برقرار رہنا مشکل ہو سکتی ہے، بالخصوص اس صورت میں جب امریکی وفاقی ریزرو (Federal Reserve) مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ شرح سود میں اضافے سے عام طور پر کاروباری لاگت بڑھ جاتی ہے اور حصص بازار میں سرمایہ کاری کی رفتار سست پڑنے کے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو اسٹاک مارکیٹ میں وقتاً فوقتاً اتار چڑھاؤ اور مندی کا رجحان ایک فطری عمل رہا ہے، جس سے اکثر نئے سرمایہ کار خوفزدہ ہو کر اپنے اثاثے فروخت کر دیتے ہیں یا مارکیٹ سے باہر ہو جاتے ہیں۔ تاہم، جو سرمایہ کار تاریخ کے اسباق کو مدنظر رکھتے ہیں اور مندی کے اس دور کو ایک سنہری موقع کے طور پر دیکھتے ہیں، وہ طویل مدت میں سب سے زیادہ منافع کمانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ تاریخی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جب بھی مارکیٹ میں بڑی گراوٹ یا مندی آتی ہے، اس کے بعد ایک مضبوط بحالی کا دور شروع ہوتا ہے، جس سے معیاری اور مضبوط کمپنیوں کے شیئرز انتہائی کم قیمت پر خریدنے کا موقع ملتا ہے۔ مالیاتی ماہرین کا مشورہ ہے کہ سرمایہ کاروں کو قلیل مدت کے اتار چڑھاؤ سے گھبرانے کے بجائے طویل مدتی اہداف پر توجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔ مندی کے دوران بہترین اور مستحکم کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کرنے سے مستقبل میں جب مارکیٹ دوبارہ بحال ہوتی ہے تو سرمایہ کاروں کو غیر معمولی طور پر بڑا منافع حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے، موجودہ غیر یقینی صورتحال کے باوجود، ہوشیار اور دور اندیش سرمایہ کار تاریخی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ بحران کو منافع میں بدل سکیں۔