World
روس کا یوکرین پر حملہ، شمالی کوریا کے میزائلوں کے استعمال کا انکشاف
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ملک پر حملوں کے لیے شمالی کوریا کے فراہم کردہ بیلسٹک میزائل استعمال کر رہا ہے۔ زپورিঝیا میں ہونے والے حالیہ حملوں میں کم از کم چھ افراد ہلاک اور انیس زخمی ہوئے تھے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے ایک اہم اور تشویشناک انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی فوج یوکرین کے شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے شمالی کوریا کے فراہم کردہ بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کر رہی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں بالخصوص زپورিঝیا میں روسی فضائی اور میزائل حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کی اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں زپورিঝیا کے علاقے میں ہونے والے شدید میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ انیس کے قریب افراد شدید زخمی ہوئے۔ یوکرین کے حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں استعمال ہونے والے گولہ بارود اور میزائلوں کی نوعیت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ماسکو اب اپنے اتحادیوں بالخصوص پیانگ یانگ سے حاصل کردہ عسکری سازوسامان کو یوکرین کے خلاف جنگ میں بھرپور طریقے سے استعمال کر رہا ہے۔
بین الاقوامی دفاعی ماہرین بھی اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان تعلقات میں حالیہ قربت کے بعد عسکری تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ مغربی ممالک نے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی اور یوکرین کے لیے انسانی بحران کے ساتھ ساتھ سلامتی کے چیلنجز بھی سنگین تر ہوتے جائیں گے۔
صدر زیلنسکی نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور یوکرین کو اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جدید عسکری امداد فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی دفاعی افواج ہر ممکن طریقے سے ملک کا دفاع جاری رکھیں گی لیکن اتحادی ممالک کی طرف سے جدید دفاعی نظام کی فراہمی شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔