LIVE
Loading Breaking News...

گلوبل ساؤتھ کا ڈیجیٹل مستقبل اور غیر ملکی کمپنیوں کا اثر و رسوخ

News Image
سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے ذریعے ڈیجیٹل خلیج کو ختم کیا جا سکتا ہے، لیکن گلوبل ساؤتھ کو رسائی کے بدلے غیر ملکی کارپوریشنز پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ ترقی پذیر ممالک کو اپنی ڈیجیٹل خودمختاری برقرار رکھنے کے لیے مضبوط حکمت عملی اپنانی ہوگی۔
جدید دور میں ڈیجیٹل رسائی انسانی زندگی اور معیشت کا ایک بنیادی حصہ بن چکی ہے۔ دنیا بھر میں انٹرنیٹ کی فراہمی کے لیے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جو دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رابطے کے ذرائع کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے ساتھ ہی بین الاقوامی سطح پر یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ آیا گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو ڈیجیٹل شمولیت کے نام پر چند بین الاقوامی ارب پتیوں اور ان کی کارپوریشنز کا محتاج ہو جانا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے، لیکن یہ عمل کسی نئی غلامی یا انحصار کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ جیف بیزوس اور ایلن مسک جیسی شخصیات کی زیرِ قیادت کمپنیاں سیٹلائٹ کلسٹرز کے ذریعے دنیا کے ہر کونے تک تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچانے کے دعوے کر رہی ہیں۔ بظاہر یہ ایک مثبت اقدام ہے جو تعلیم، صحت اور معاشی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔ لیکن اس کے منفی پہلوؤں پر بھی غور کرنا ناگزیر ہے۔ اگر ترقی پذیر ممالک اپنی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر بیرونی اور نجی کمپنیوں پر انحصار کرنے لگیں گے، تو ان کی قومی سلامتی، ڈیٹا کی حفاظت اور پالیسی سازی کی آزادی شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ٹیکنالوجی اور معاشی طاقت چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی ہے، تو کمزور ممالک کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو اجتماعی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ صرف غیر ملکی کمپنیوں کے رحم و کرم پر رہنے کے بجائے، ان ممالک کو اپنے علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہوگا اور مقامی سطح پر ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تیار کرنا ہوگا۔ حکومتوں کو ایسے ضابطہ کار وضع کرنے ہوں گے جو غیر ملکی سرمایہ کاری اور خدمات کے فوائد تو حاصل کریں، لیکن ملکی خودمختاری اور شہریوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ اس طرح، گلوبل ساؤتھ نہ صرف ڈیجیٹل انقلاب سے مستفید ہو سکے گا بلکہ ایک منصفانہ اور پائیدار ڈیجیٹل مستقبل کی بنیاد بھی رکھی جا سکے گی۔