LIVE
Loading Breaking News...

عراق کا کردستان خطہ امریکی ایرانی جنگ اور معاشی بحران کی لپیٹ میں

News Image
عراق کے نیم خود مختار خطے کردستان کو علاقائی تنازعات کی وجہ سے شدید معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حکام کے مطابق خطے کی ستر فیصد تجارت اس جاری کشیدگی کی نذر ہو چکی ہے۔
عراق کا نیم خود مختار خطہ کردستان مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی بالخصوص امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کے باعث شدید معاشی مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔ اس خطے کو طویل عرصے سے خطے کی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا رہا ہے، تاہم حالیہ کشیدگی نے اس کی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کردستان ریجنل گورنمنٹ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اور بیانات کے مطابق اس تمام تر کشیدگی اور علاقائی تنازعات کی وجہ سے خطے کی کل تجارت کا تقریباً ستر فیصد حصہ متاثر یا منقطع ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے مقامی کاروباری طبقے اور عام شہریوں کی زندگیوں کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے کیونکہ معاشی سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں۔ تجارت میں اس بڑی گراوٹ کی وجہ سے خطے کے مالیاتی نظام پر بھی شدید دباؤ بڑھ رہا ہے اور روزگار کے مواقع تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ میں کمی نہیں آتی اور علاقائی استحکام بحال نہیں ہوتا، تب تک اس خطے کی معیشت کا بحران سے نکلنا ناممکن نظر آتا ہے۔ حکومتی حلقوں اور عالمی برادری کی جانب سے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، لیکن زمینی حقائق یہی ہیں کہ کردستان کے عوام اس جنگ اور کشیدگی کی بھاری قیمت چکانے پر مجبور ہیں۔ خطے کے تاجر اور عوام دونوں ہی اس بحران کے فوری خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔