Technology
ویتنام اور اسپیس ایکس کا خلائی تعاون، سیٹلائٹ لانچ کرنے کا اعلان
ویتنام کی ایرو اسپیس کمپنی ون اسپیس نے ایلون مسک کی راکٹ کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ ایک اہم معاہدے کا اعلان کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اگلے سال خلا میں پہلا سیٹلائٹ روانہ کیا جائے گا جو دونوں اداروں کے درمیان تعاون کا آغاز ہے۔
ہنوئی میں قائم معروف ایرو اسپیس کمپنی ون اسپیس (VinSpace) نے دنیا کی مشہور ترین راکٹ اور خلائی کمپنی اسپیس ایکس (SpaceX) کے ساتھ ایک تاریخی معاہدے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس نئے اور اہم معاہدے کے تحت ویتنامی کمپنی اگلے سال اپنے پہلے سیٹلائٹ کو خلا میں روانہ کرنے کے لیے اسپیس ایکس کے راکٹوں کی خدمات حاصل کرے گی، جو ملک کے تکنیکی اور خلائی سفر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اسپیس ایکس جو کہ معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کی ملکیت ہے، دنیا بھر میں اپنی جدید ترین اور کم لاگت راکٹ لانچنگ ٹیکنالوجی کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ اس شراکت داری سے ون اسپیس کو اپنے خلائی اہداف کو تیزی سے حاصل کرنے اور بین الاقوامی معیار کے مطابق سیٹلائٹ ڈیپلومنٹ کے عمل کو یقینی بنانے میں بڑی مدد ملے گی۔ ہنوئی کے حکام اور صنعتی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ویتنام کی ڈیجیٹل اور کمیونیکیشن انڈسٹری کو بھی ایک نیا فروغ ملے گا۔
دونوں کمپنیوں کے درمیان یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایشیائی خطے میں خلائی تحقیق اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے نہ صرف دونوں کاروباری اداروں کے درمیان مستقبل کے تعاون کے دروازے کھلیں گے بلکہ ویتنام جیسے ترقی پذیر ملک کو عالمی خلائی معیشت میں اپنا نمایاں مقام بنانے کا موقع بھی ملے گا۔ اگلے سال ہونے والے اس پہلے سیٹلائٹ کے اجراء پر پوری دنیا کے تکنیکی ماہرین کی نظریں مرکوز ہیں۔