LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی آباد کاروں کا تشدد واضح ریاستی دہشت گردی ہے

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر ہونے والے تشدد کو واضح ریاستی دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔ اس صورتحال پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے اور دیگر فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک پر بڑھتے ہوئے حملوں کو واضح ریاستی دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مختلف ممالک کے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پرتشدد کارروائیاں نجی سطح پر نہیں ہو رہی ہیں بلکہ انہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہے، جس کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام اور خوف و ہراس کی فضا شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق، قابض افواج کی موجودگی میں آباد کاروں کا یہ رویہ قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے مظلوم فلسطینیوں کی زندگی مزید اجیرن بن گئی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران، اس نوعیت کے پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں گھروں، مساجد اور زرعی زمینوں کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، ان حملوں کا مقصد فلسطینیوں کو ان کے آبائی علاقوں سے جبری بے دخل کرنا اور نئی بستیوں کی توسیع کے لیے زمینوں پر قبضہ کرنا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف روزمرہ کی بنیاد پر ہراساں کیا جاتا ہے بلکہ ریاستی اداروں کی خاموشی یا بالواسطہ حمایت کی وجہ سے انہیں کوئی قانونی تحفظ بھی حاصل نہیں ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے اس سنگین صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف ذیلی اداروں نے بھی بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض طاقت ہونے کے ناطے اسرائیل کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کی حفاظت کرے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ انتظامی اور عسکری مشینری کی مبینہ پشت پناہی کی وجہ سے ان واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی، اور خطے میں پائیدار امن کی کوششیں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔