LIVE
Loading Breaking News...

اسٹیٹ بینک رپورٹ: مشرق وسطیٰ تنازع سے مہنگائی اور توانائی کی قیمتیں بڑھنے کا خطرہ

News Image
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور موسمیاتی خطرات عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق معاشی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے ساختی اصلاحات پر فوری عمل درآمد ناگزیر ہے۔
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ششماہی مانیٹری پالیسی رپورٹ جاری کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال عالمی منڈی میں توانائی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو متوقع حد سے زیادہ بڑھا سکتی ہے۔ پیر کے روز جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، ان عالمی عوامل سے پاکستان کا مجموعی معاشی منظر نامہ بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ مرکزی بینک کا یہ اقدام مانیٹری پالیسی کے فیصلوں میں شفافیت کو فروغ دینے اور معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں جنوری کے بعد کے معاشی اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ فروری کے آخر میں مشرق وسطیٰ کے تنازع کے آغاز سے عالمی توانائی کی قیمتوں، فریٹ اور انشورنس کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے سپلائی چین بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس بڑے بیرونی جھٹکے کے باوجود، مالی سال 2026 کے معاشی نتائج جنوری میں کی گئی پیشگوئیوں کے مطابق ہی رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی بروقت اور سخت مانیٹری پالیسی نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ثانوی اثرات کو روکنے میں مدد دی ہے، جبکہ اسٹیک ہولڈرز کی مہنگائی سے متعلق توقعات کو بھی قابو میں رکھا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے بھی مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے بروقت گھریلو ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا اور توانائی کی بچت کے لیے اقدامات کیے گئے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2027 کے اختتام تک مہنگائی میں کمی متوقع ہے اور یہ ہدف کی بالائی حد کے قریب مستحکم ہو جائے گی۔ اس دوران معاشی شرح نمو 3.5 سے 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ بیرونی شعبے کے حوالے سے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0 سے 1 فیصد کے اندر رہنے کا امکان ہے، جو زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دسمبر 2026 تک 20.20 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر کا ہدف حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور مالی سال کے اختتام تک ان میں مزید اضافہ ہوگا۔ تاہم، مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں بالخصوص ایل نینو کے اثرات اور سیلاب سے معیشت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ساختی اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر برآمدات کو کمزور کر سکتی ہے، پیداواری صلاحیت کو سست کر سکتی ہے اور معیشت کی بلند شرح نمو کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی سطح پر مسلسل اور موثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ بیرونی کھاتوں کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔