Technology
ٹی ایس ایم سی کی فروخت میں 45 فیصد اضافہ، اے آئی چپس کی مانگ عروج پر
تائیوان سیمیکنڈویکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی نے جولائی کے مہینے میں اپنی فروخت میں 45 فیصد شاندار اضافے کا اعلان کیا ہے۔ مصنوعی ذہانت سے متعلقہ چپس کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ اس بڑی کامیابی کی بنیادی وجہ ہے۔
تائیوان سیمیکنڈویکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (ٹی ایس ایم سی) نے پیر کے روز اپنے حالیہ مالیاتی اعداد و شمار جاری کیے ہیں جن کے مطابق جولائی کے مہینے میں کمپنی کی فروخت میں حیرت انگیز طور پر 45 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دنیا کی اس سب سے بڑی چپ مینوفیکچرنگ کمپنی کے لیے یہ کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلقہ پروسیسرز اور سیمی کنڈکٹرز کی مانگ میں مسلسل اور تیز رفتار اضافہ ہو رہا ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جولائی میں آمدنی توقعات سے کہیں زیادہ رہی جو کہ جدید ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایپل اور اینڈیا جیسی بڑی عالمی ٹیک کمپنیاں اپنی مصنوعات کے لیے ٹی ایس ایم سی کی جدید ترین چپ مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی پر انحصار کرتی ہیں۔ اے آئی کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے دنیا بھر کی کارپوریشنز طاقتور ترین ہارڈویئر خرید رہی ہیں جس کا براہ راست فائدہ ٹی ایس ایم سی کو ہو رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سیمی کنڈکٹر کی صنعت میں یہ تیزی آنے والے مہینوں میں بھی جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔ ٹی ایس ایم سی نہ صرف اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہے بلکہ وہ عالمی سپلائی چین کے چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نبرد آزما بھی ہے۔ اس شاندار فروخت کے بعد کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں بھی مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔