Technology
دنیا کی پہلی سولر ایمبولینس کا تعارف - نیکسورا نیوز
آئنڈہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے طلبا انجینئرز نے دنیا کی پہلی مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس متعارف کرا دی ہے۔ یہ جدید گاڑی دور دراز اور ایسے علاقوں میں جہاں بجلی یا بنیادی سہولیات نہیں ہیں، فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
نیکسورا نیوز کے مطابق، نیدرلینڈز کی آئنڈہوون یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے ہونہار طلبا اور محققین نے انجینئرنگ کی دنیا میں ایک اور شاندار کارنامہ انجام دیتے ہوئے دنیا کی پہلی مکمل طور پر شمسی توانائی سے چلنے والی ایمبولینس تیار کر لی ہے۔ اس انقلابی گاڑی کو 'سٹیلا جُوا' کا نام دیا گیا ہے، جو روایتی ایندھن یا محض بیٹری پر انحصار کرنے کے بجائے سورج کی روشنی سے اپنی توانائی حاصل کرتی ہے اور آلودگی سے پاک سفر کو ممکن بناتی ہے۔
یہ منفرد گاڑی خاص طور پر ایسے دور دراز اور آف گرڈ علاقوں کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے جہاں سڑکوں کا فقدان، بجلی کی عدم دستیابی اور طبی سہولیات تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے۔ اس سولر ایمبولینس کی مدد سے اب میڈیکل ٹیمیں انتہائی دشوار گزار اور پسماندہ علاقوں میں بھی مریضوں تک بروقت پہنچ سکیں گی اور موقع پر ہی انہیں بہترین طبی امداد فراہم کی جا سکے گی، جس سے قیمتی جانیں بچانے میں بڑی مدد ملے گی۔
منصوبے سے وابستہ انجینئرنگ کے طلبا کا کہنا ہے کہ اس گاڑی کی تیاری کا بنیادی مقصد ہنگامی طبی خدمات کو ماحول دوست بنانا اور دنیا کے پسماندہ ترین خطوں تک جدید ہیلتھ کیئر کا نظام پہنچانا ہے۔ اس میں جدید ترین سولر پینلز اور توانائی کے ذخیرے کا ایسا نظام نصب کیا گیا ہے جو کم روشنی یا ابر آلود موسم میں بھی ایمبولینس کے نظام کو فعال رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ سٹیلا جُوا کا یہ منصوبہ مستقبل میں ایمبولینس سروسز اور ہنگامی طبی امداد کی فراہمی کے شعبے میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ جیسے جیسے اس ٹیکنالوجی کو مزید وسعت دی جائے گی، دنیا بھر کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات کی فراہمی کا نقشہ تبدیل ہو جائے گا، اور فوسل فیول پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔