Business
چین کے حصص بازار میں پالیسی سپورٹ کی امید پر تیزی
چین میں جولائی کے دوران صارفین کی مہنگائی کی شرح کم ہو کر چھ ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ معاشی دباؤ کے پیش نظر نئی حکومتی پالیسیوں اور سپورٹ کی امیدوں نے حصص بازار میں مثبت رجحان کو جنم دیا ہے۔
چین کے مالیاتی اور سرمایاتی منڈیوں میں حالیہ دنوں کے دوران مثبت رجحان دیکھنے میں آیا ہے جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی سرکاری پالیسیوں اور معاشی محرکات کی توقعات ظاہر کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، حصص بازار میں یہ تیزی اس امید پر مبنی ہے کہ حکومت معیشت کو سہارا دینے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے گی۔ حالیہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق چین میں صارفین کی مہنگائی کی شرح جولائی کے مہینے میں سالانہ بنیادوں پر کم ہو کر صفر اعشاریہ پانچ فیصد پر آ گئی ہے جو کہ گزشتہ چھ ماہ کی سب سے کم سطح ہے۔ مہنگائی میں اس کمی کی بنیادی وجوہات میں خوراک کی اشیاء کی قیمتوں میں گراوٹ اور غیر خوراکی اخراجات میں سست رفتار اضافہ شامل ہے۔ اس صورتحال نے مرکزی بینک اور حکومتی پالیسی سازوں کے لیے نئے مالیاتی فیصلے کرنے کی گنجائش پیدا کر دی ہے۔ پروڈیوسر یا کارخانہ دار کی سطح پر بھی مہنگائی میں اعتدال دیکھا گیا ہے جہاں یہ شرح گزشتہ ماہ کے چار اعشاریہ ایک فیصد سے کم ہو کر تین اعشاریہ پانچ فیصد پر آ گئی ہے۔ یہ اشارے بتاتے ہیں کہ معاشی سرگرمیوں میں دباؤ کے باوجود استحکام کی کوششیں جاری ہیں اور صنعتی شعبہ بھی حالات کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے۔ مالیاتی منڈی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کم ہوتی ہوئی مہنگائی اور معاشی سست روی سے نمٹنے کے لیے بیجنگ کی جانب سے مزید ہدفی اقدامات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ ان متوقع پالیسی فیصلوں کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے اور حصص بازار میں حصص کی خرید و فروخت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ آئندہ آنے والے ہفتوں میں معاشی سمت کا دار و مدار اس بات پر ہوگا کہ حکومت کس طرح کے نئے پیکجز کا اعلان کرتی ہے اور عالمی منڈیوں کے اثرات چینی معیشت پر کیسے مرتب ہوتے ہیں۔