Health
کانگو میں ایبولا وباء: ہلاکتیں دو ہزار سے تجاوز کر گئیں
جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد دو ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ یہ تاریخ کی سب سے تیز رفتار وباء بن گئی ہے۔ حکام کے مطابق پانچ صوبوں میں اب تک چار ہزار سے زائد کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔
جمہوری جمہوریہ کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کے باعث صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے اور اس وباء سے ہونے والی اموات کی تعداد دو ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ ملک کی تاریخ میں پھیلنے والی ایبولا کی اب تک کی سب سے تیز رفتار اور خطرناک وباء ہے جس نے نظامِ صحت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بین الاقوامی اور مقامی طبی ادارے ہنگامی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم سیکیورٹی کے مسائل اور عوامی مزاحمت کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، منگل تک ملک کے پانچ مختلف صوبوں میں مجموعی طور پر چار ہزار تین سو اکیاسی (4,381) مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ وائرس کا یہ پھیلاؤ اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ انتہائی کم عرصے میں اتنے بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت اور دیگر فلاحی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں ویکسینیشن مہم کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تاکہ مزید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے اور اس مہلک مرض کے پھیلاؤ کا دائرہ کار محدود کیا جا سکے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر مزید وسائل فراہم نہ کیے گئے اور حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر نہ بنایا گیا تو صورتحال مزید قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ مقامی آبادی میں اس بیماری سے متعلق آگاہی پھیلانے اور طبی ٹیموں کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت اور عالمی ادارے اس عالمی صحت کے ہنگامی بحران سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہیں لیکن زمینی حقائق کے پیش نظر یہ جنگ تاحال انتہائی دشوار گزار مرحلے میں داخل ہے۔