Business
بورڈن میں کھدائی کی کامیابی اور مین زون کی توسیع
کمپنی نے بورڈن کے علاقے میں زیر زمین کھدائی کے دوران شاندار نتائج حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے مین زون کی حدود میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ نئے ڈرلنگ کے اعداد و شمار کے مطابق مختلف مقامات پر سونے کی بلند مقدار دریافت کی گئی ہے۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق بورڈن کے پروجیکٹ میں زیر زمین ڈرلنگ کا عمل انتہائی کامیاب رہا ہے جس کے نتیجے میں مین زون اور ایسٹ لوئر زونز (ای ایل زیڈ) کے دائرہ کار میں نمایاں توسیع کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس تازہ پیشرفت کے بعد مین زون کو آدھے کلومیٹر سے زائد رقبے تک وسعت مل گئی ہے، جو کمپنی کے لیے ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ زیر زمین کھدائی کے دوران حاصل ہونے والے نئے ڈیٹا سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس خطے میں معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں جو مستقبل کی پیداوار کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق، مین زون میں کی جانے والی ڈرلنگ کے دوران 25.9 میٹر کے رقبے پر 9.16 گرام فی ٹن (gpt) سونا دریافت ہوا ہے، جس میں 4.0 میٹر کے حصے پر 18.40 گرام فی ٹن اور 4.8 میٹر کے حصے پر 21.52 گرام فی ٹن کی شاندار گریڈ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ دیگر حصوں میں بھی قابل قدر نتائج سامنے آئے ہیں جن میں 10.2 میٹر پر 7.01 گرام فی ٹن، 8..6 میٹر پر 7.63 گرام فی ٹن اور 19.3 میٹر پر 4.75 گرام فی ٹن سونا پایا گیا ہے، جس میں 7 گرام فی ٹن کا ایک اور اہم حصہ بھی شامل ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ بورڈن کا یہ خطہ معدنی وسائل کے لحاظ سے انتہائی زرخیز ہے۔
ماہرین ارضیات اور مائننگ انڈسٹری سے وابستہ حلقوں نے ان نتائج کو انتہائی حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مسلسل اور مثبت ڈرلنگ کے نتائج نہ صرف پروجیکٹ کی اقتصادی اہمیت کو بڑھاتے ہیں بلکہ کمپنی کے سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک مضبوط پیغام ہیں۔ زیر زمین کھدائی کا یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا تاکہ اس زون کے مزید چھپے ہوئے حصوں کو بھی سامنے لایا جا سکے اور اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ ذخائر کتنی گہرائی اور وسعت تک پھیلے ہوئے ہیں۔
کمپنی کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ وہ بورڈن پروجیکٹ پر پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے کھدائی کے عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے۔ اس کامیابی کے بعد آنے والے مہینوں میں مزید بہتر معاشی اور پیداواری اہداف حاصل کرنے کی توقع کی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف مقامی سطح پر معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی بلکہ عالمی منڈی میں بھی اس پروجیکٹ کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوگا۔