LIVE
Loading Breaking News...

بی ایم ڈبلیو کی نئی سولر کار جو سورج کی روشنی سے چلتی ہے

News Image
بی ایم ڈبلیو کی حمایت یافتہ ڈیپ اورنج 17 نامی شمسی گاڑی سورج کی روشنی سے اتنی بجلی پیدا کرتی ہے جتنی وہ استعمال کرتی ہے۔ یہ پروٹوটাইپ گاڑی روزانہ بارہ میل کے اوسط سفر کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہے۔
حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک ایسی عجیب و غریب گاڑی کی تصاویر وائرل ہو رہی ہیں جنہیں دیکھ کر لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید ٹیسلا نے اپنی مشہور زمانہ سائبر ٹرک کا کوئی نیا ورژن متعارف کرا دیا ہے۔ تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ اس گاڑی کا ٹیسلا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک جدید شمسی گاڑی ہے جسے بی ایم ڈبلیو کی حمایت یافتہ پروجیکٹ کے تحت تیار کیا گیا ہے اور یہ سورج کی روشنی کی مدد سے مفت سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس پراجیکٹ کا نام ڈیپ اورنج 17 رکھا گیا ہے جو کہ آٹوموٹو انجینئرنگ کی دنیا میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس گاڑی کی سب سے بڑی اور انوکھی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں سولہ سو سے زائد فوٹو وولٹک سیلز نصب کیے گئے ہیں جو سورج کی کرنوں کو جذب کر کے بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔ اس پروجیکٹ کے خالقین کا دعویٰ ہے کہ یہ گاڑی اتنی بجلی پیدا کرتی ہے جتنی کہ اسے اپنے معمول کے سفر کے دوران استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس طرح یہ گاڑی روایتی الیکٹرک گاڑیوں کے مقابلے میں چارجنگ کے جھنجھٹ سے مکمل طور پر آزاد ہو جاتی ہے اور اس کے مالکان کو گھر یا چارجنگ اسٹیشن پر گاڑی پلگ ان کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ تکنیکی اعتبار سے یہ پروٹوটাইپ گاڑی اوسطاً بارہ میل کے روزانہ کے کمیوٹ یعنی آنے جانے کے سفر کو ذہن میں رکھ کر ڈیزائن کی گئی ہے۔ شہر کے اندر روزمرہ کے چھوٹے سفر کے لیے یہ گاڑی انتہائی موزوں ہے کیونکہ اس دوران شمسی توانائی کی مدد سے بیٹری مسلسل چارج رہتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے پروجیکٹس مستقبل کی پائیدار نقل و حمل میں اہم کردار ادا کریں گے، کیونکہ ان سے نہ صرف روایتی ایندھن پر انحصار کم ہوگا بلکہ ماحول دوست توانائی کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ اگرچہ یہ ابھی ایک پروٹوটাইپ مرحلے میں ہے، لیکن اس کی کامیابی آٹوموٹو انڈسٹری بالخصوص سولر گاڑیوں کے مستقبل کے لیے نئے در وا کر سکتی ہے۔ بی ایم ڈبلیو جیسے بڑے ادارے کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقبل میں سورج کی روشنی سے چلنے والی گاڑیاں صرف ایک خواب نہیں رہیں گی بلکہ سڑکوں پر عام نظر آئیں گی۔