World
انصاف میں تاخیر پر متاثرہ خاندان کا شدید ردعمل
بیس سال قبل یروشلم میں ہونے والے ایک ہولناک دھماکے میں اپنی بیٹی کو کھونے والے والد نے انصاف کے طویل اور سست نظام پر شدید تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے متاثرین کے لیے انصاف کا انتظار دہائیوں پر محیط نہیں ہونا چاہیے۔
یروشلم میں آج سے تقریباً دو دہائی قبل پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں اپنی بیٹی ملکی کو کھونے والے والدین نے انصاف کے نظام پر گہرے دکھ اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے ایسے ہولناک واقعات کے بعد متاثرہ خاندانوں کو انصاف کے لیے دہائیوں انتظار کرنا پڑتا ہے جو کہ خود ایک الگ اذیت ہے۔ نو اگست دو ہزار ایک کی وہ صبح ان کے لیے ایک ڈراؤنے خواب کی طرح تھی جب وہ معمول کے مطابق اپنے کام پر گئے اور پیچھے ان کی بیٹی اس المناک حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس واقعے نے ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ درد میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہوتا گیا۔ خاندان کا یہ موقف ہے کہ قانون اور انصاف کے اداروں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ مجرموں کو جلد از جلد کٹہرے میں لایا جائے تاکہ متاثرین کے زخموں پر کچھ مرہم رکھ جا سکے۔ طویل عدالت کارروائیاں اور قانونی پیچیدگیاں لواحقین کے لیے صدمے کو مزید طویل کر دیتی ہیں۔ اس کیس کے حوالے سے متاثرہ والد کا کہنا ہے کہ انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ عالمی سطح پر دہشت گردی کے متاثرین کے حقوق اور ان کے لیے جلد از جلد فیصلوں کے حصول پر اب سنجیدہ بحث شروع ہونی چاہیے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور عدالتی نظام سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مزید اذیت کا سامنا نہ کرناپڑے اور وہ اس تکلیف دہ باب کو پیچھے چھوڑ کر زندگی کی طرف واپس لوٹ سکیں۔