Technology
ٹی ایس ایم سی کی جولائی آمدنی میں 44.7 فیصد کا بڑا اضافہ
تائیوان سیمیکنڈوکر مینوفیکچرنگ کمپنی نے جولائی کے مہینے میں اپنی آمدنی میں ریکارڈ 44.7 فیصد اضافے کا انکشاف کیا ہے۔ یہ شاندار ترقی دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت سے متعلق چپس کی بڑھتی ہوئی مانگ کی عکاسی کرتی ہے۔
تائیوان سیمیکنڈوکر مینوفیکچرنگ کمپنی (TSMC) نے اپنے حالیہ مالیاتی اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں جن کے مطابق جولائی کے مہینے میں کمپنی کی آمدنی میں سال بہ سال کی بنیاد پر 44.7 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی کنٹریکٹ چپ بنانے والی اس کمپنی نے بتایا کہ جولائی میں کل آمدنی 467.58 بلین تائیوانی ڈالر یعنی تقریباً 14.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس شاندار مالیاتی کارکردگی کی سب سے بڑی وجہ مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے استعمال ہونے والے جدید ترین چپس کی طلب میں ہونے والا بے پناہ اضافہ ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں آنے والے انقلاب کے بعد سے سیمی کنڈکٹرز کی صنعت کو نیا فروغ ملا ہے۔ بڑی ٹیک کمپنیاں اور عالمی ادارے اپنے اے آئی سسٹمز کو طاقتور بنانے کے لیے طاقتور اور جدید ترین چپس کی تلاش میں ہیں اور ٹی ایس ایم سی اس شعبے میں سب سے آگے ہے۔ ایپل اور اینڈیا جیسی بڑی عالمی کمپنیاں اپنی مصنوعات اور سرورز کے لیے اسی ادارے پر انحصار کرتی ہیں، جس کی وجہ سے کمپنی کی پیداواری صلاحیت اور آمدنی میں مسلسل ریکارڈ توجّہ طلب اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹی ایس ایم سی کی یہ ترقی آنے والے مہینوں میں بھی جاری رہنے کا قوی امکان ہے کیونکہ عالمی مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کا رحجان مزید تیز ہو رہا ہے۔ چپ سازی کی اس صنعت میں اس کامیابی نے نہ صرف تائیوان کی معیشت کو سہارا دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر سیمی کنڈکٹر سپلائی چین کے اندر توازن برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمپنی کی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ وہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے اور بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے اپنی فیکٹریوں کی پیداواری صلاحیت کو مزید بڑھانے کے منصوبوں پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔